کیا یہ وہی انگوٹھی ہے جو حضرت عیسیٰؑ کو سزائے موت دینے والے رومی حاکم سے جڑی ہے؟ 2 ہزار سال پرانا راز نئی تحقیق نے کھول دیا

کیا یہ وہی انگوٹھی ہے جو حضرت عیسیٰؑ کو سزائے موت دینے والے رومی حاکم سے جڑی ہے؟ 2 ہزار سال پرانا راز نئی تحقیق نے کھول دیا

تقریباً 2 ہزار سال پرانی ایک معمولی سی دھاتی انگوٹھی نے تاریخ کے ایک انتہائی مشہور کردار پونتیوس پیلاطس کو دوبارہ بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے،انگوٹھی پر یونانی حروف میں “Pilato” لکھا ہے، وہی نام جو رومی حاکم پونتیوس پیلاطس کے نام سے جڑا ہوا ہے، جس نے حضرت عیسیٰؑ کے مقدمے کی نگرانی کی تھی
لیکن نیشنل جیوگرافک کی تازہ تحقیق کے مطابق کہانی شاید وہ نہیں جو پہلی نظر میں دکھائی دیتی ہے
یہ انگوٹھی کئی دہائیاں قبل قدیم یہودیہ کے ہیرودیوم کے قلعہ نما محل سے ملی تھی،2018 میں صفائی اور جدید تکنیک سے اس پر کندہ الفاظ واضح ہوئے تو یہ خیال سامنے آیا کہ شاید یہ خود پیلاطس کی ذاتی انگوٹھی تھی،مگر ماہرین برسوں سے اس پر متفق نہیں تھے
سب سے بڑا سوال انگوٹھی کی حیثیت تھا،یہ انتہائی سادہ اور نسبتاً سستے تانبے کے مرکب سے بنی ہوئی ہے، جبکہ پونتیوس پیلاطس رومی سلطنت کا طاقتور صوبائی حاکم تھا،ماہرین کے مطابق اس معیار کی انگوٹھی کا اس کے ذاتی استعمال میں ہونا غیر معمولی معلوم ہوتا ہے
اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کی ماہر کیتھرین بونیشو نے ایک نیا مفروضہ پیش کیا ہے،ان کے مطابق انگوٹھی پر لکھا لفظ لازماً “پیلاطس کی ملکیت” نہیں بتاتا بلکہ ممکن ہے اس کا مطلب “پیلاطس کے لیے” یا “پیلاطس کی طرف سے” ہو
اس صورت میں انگوٹھی کسی رومی گورنر کی ذاتی زینت نہیں بلکہ اس کے انتظامی نظام کا ایک چھوٹا سا پرزہ ہو سکتی ہے،ممکن ہے کسی نچلے درجے کے سرکاری کارکن، حتیٰ کہ کسی غلام یا آزاد کیے گئے کارکن نے اس مہر کو سامان، سرکاری دستاویزات یا پیلاطس سے متعلق انتظامی معاملات کی تصدیق کے لیے استعمال کیا ہو
یہ مفروضہ اس لیے بھی اہم ہے کہ انگوٹھی ہیرودیوم سے ملی، جو پہلی صدی عیسوی میں رومی انتظامیہ کے لیے استعمال ہونے والا اہم مرکز تھا،اس دور میں مہر والی انگوٹھیاں دستاویزات اور سامان کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتی تھیں
پونتیوس پیلاطس تقریباً 26 سے 36 عیسوی تک یہودیہ کا رومی حاکم رہا،عہد نامہ جدید میں وہ حضرت عیسیٰؑ کے مقدمے اور مصلوب کیے جانے کے فیصلے سے منسلک سب سے نمایاں رومی کردار ہے،لیکن تاریخ کے غیر مذہبی ذرائع بھی اس کے وجود کی تصدیق کرتے ہیں،1961 میں قیصریہ میریٹیما سے ملنے والی ایک پتھر کی تحریر میں “پونتیوس پیلاطس، یہودیہ کا حاکم” کا ذکر دریافت ہوا تھا
پیلاطس کی شخصیت بھی تاریخ میں متنازعہ رہی ہے،انجیل کی روایات میں وہ حضرت عیسیٰؑ کو سزا دینے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ پہلی صدی کے یہودی مؤرخ جوزیفس اور فلسفی فیلو کی تحریروں میں وہ ایک سخت گیر رومی منتظم کے طور پر سامنے آتا ہے، جو مقامی آبادی کے ساتھ متعدد تنازعات میں گھرا رہا
اور اب یہ چھوٹی سی انگوٹھی ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے
شاید یہ پیلاطس کی انگلی میں کبھی پہنائی ہی نہیں گئی تھی،شاید اسے کسی ایسے گمنام شخص نے استعمال کیا جو رومی انتظامیہ کے لیے کام کرتا تھا اور پیلاطس کے نام پر سامان یا دستاویزات کی تصدیق کرتا تھا
یعنی ممکن ہے اس انگوٹھی کا سب سے بڑا راز یہ نہ ہو کہ یہ پونتیوس پیلاطس کی تھی یا نہیں، بلکہ یہ ہو کہ تقریباً 2 ہزار سال پہلے ایک طاقتور رومی حاکم کے نام سے چلنے والی سلطنتی مشینری کو زمین پر کون لوگ چلا رہے تھے
ایک معمولی سی انگوٹھی، ایک مشہور نام اور تاریخ کے سب سے اہم مذہبی واقعات میں سے ایک کے درمیان یہ تعلق آج بھی مکمل طور پر ثابت نہیں ہوا، مگر نئی تحقیق نے اس قدیم راز کو پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپ ضرور بنا دیا ہے

قومی خبریں سے مزید