مشرقی جرمنی میں اے ایف ڈی کی مقبولیت میں اضافہ، تارکین وطن خود کو غیر محفوظ اور اجنبی محسوس کرنے لگے،ری مائیگریشن مہم چلانے والے جانتے ہیں ملک چلانے کے لیے ورکرز کی ضرورت ہے
جرمنی کی مشرقی ریاستوں میں دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) کی بڑھتی مقبولیت نے وہاں آباد تارکین وطن میں یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ وہ جس ملک کو برسوں سے اپنا گھر سمجھتے رہے، وہاں اب ان کی جگہ پہلے جیسی نہیں رہی
رائٹرز کے مطابق ریاست میکلن برگ-وورپومرن میں اتوار کو ہونے والے انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں AfD سب سے بڑی جماعت بننے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی تھی،اسی ریاست میں رہنے والے کئی تارکین وطن نے رائٹرز کو بتایا کہ حالیہ برسوں میں انہیں نسل پرستانہ اور تارکین وطن مخالف رویوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے
شام سے تعلق رکھنے والی شاہد نجیب اور ان کے شوہر محمود حمّوش بھی ان خاندانوں میں شامل ہیں جو خانہ جنگی کے دوران جرمنی پہنچے اور وہاں اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کی،شوہر حجام کی دکان پر کام کرتے ہیں جبکہ نجیب مقامی اسکولوں میں کھانا فراہم کرتی ہیں،ان کے دو بچے ہیں،نجیب کے مطابق ایک موقع پر ایک شخص نے انہیں کہا کہ جرمنی صرف جرمنوں کا ملک ہے، جس نے ان کے اندر دوبارہ بے دخلی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا
رائٹرز نے روسٹوک اور قریبی شہر شویرین میں تارکین وطن پس منظر رکھنے والے 20 افراد سے بات کی،بیشتر نے بتایا کہ انہیں حالیہ برسوں میں تارکین وطن مخالف گالم گلوچ، توہین آمیز جملوں اور اپنے ملک واپس جانے کے مطالبات کا سامنا زیادہ ہوا ہے،بعض نے کہا کہ اگر ماحول مزید خراب ہوا تو وہ جرمنی کے ان شہروں سے منتقل ہونے پر غور کر سکتے ہیں
اس معاملے کا ایک معاشی پہلو بھی ہے،میکلن برگ،وورپومرن میں تقریباً 50,000 تارکین وطن پس منظر رکھنے والے افراد کام کر رہے ہیں، جبکہ مشرقی جرمنی کو کم شرح پیدائش، بڑھتی عمر اور کام کرنے والی آبادی میں کمی کے باعث مستقبل میں مزید ہنرمند کارکنوں کی ضرورت ہے،جرمن لیبر حکام کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں تقریباً 316,000 شامی شہری ملازمت کر رہے ہیں
AfD کے مرکزی امیدوار لیف ایرک ہولم کا کہنا ہے کہ جماعت کو ہنرمند کارکنوں کی قانونی ہجرت پر اعتراض نہیں، تاہم وہ ایسے غیر ملکیوں کی ملک بدری کی حمایت کرتے ہیں جنہیں جرمنی میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں،ناقدین کا مؤقف ہے کہ جماعت کی وسیع تر تارکین وطن پالیسی اور “ری مائیگریشن” کی زبان جرمنی میں موجود غیر ملکیوں کے بارے میں عمومی عدم برداشت کو بڑھا سکتی ہے
6 ستمبر کو سیکسنی-انہالٹ میں AfD کی ریاستی انتخاب میں کامیابی کے بعد مشرقی جرمنی میں یہ دوسری بڑی انتخابی آزمائش ہے،میکلن برگ،وورپومرن کے تازہ ترین جائزوں میں AfD اور سوشل ڈیموکریٹس کے درمیان سخت مقابلہ دکھایا گیا، جبکہ ریاستی پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد کا سوال بھی اہم ہوگا
یہ صورتحال مشرقی جرمنی کے ایک بڑے تضاد کو نمایاں کرتی ہے،ایک طرف وہاں تارکین وطن مخالف سیاسی جذبات بڑھ رہے ہیں، دوسری طرف آبادی کے سکڑنے اور افرادی قوت کی کمی کے باعث معیشت کو بیرون ملک سے آنے والے کارکنوں کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے





