جرمن جنرل کارستن بریور نے نیٹو کی اعلیٰ فوجی قیادت کے لیے کینیڈا کی جنرل جینی کیریگنان کو شکست دے دی

جرمن جنرل کارستن بریور نے نیٹو کی اعلیٰ فوجی قیادت کے لیے کینیڈا کی جنرل جینی کیریگنان کو شکست دے دی

نیٹو کے 32 رکن ممالک کے دفاعی سربراہوں نے ہفتے کے روز ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جرمنی کے جنرل کارستن بریور کو اتحاد کی فوجی کمیٹی کا نیا چیئرمین منتخب کر لیا بریور نے اس عہدے کے لیے کینیڈا کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل جینی کیریگنان کا مقابلہ کیا اور کامیاب رہے
نیٹو کی فوجی کمیٹی اتحاد کا اعلیٰ ترین فوجی ادارہ ہے اور اس کا چیئرمین نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے اہم فوجی مشیر کے طور پر کام کرتا ہے موجودہ چیئرمین اطالوی ایڈمرل جوزیپے کاوو ڈراگونے ہیں، جن کی مدت 2027 کے وسط میں مکمل ہونے کے بعد بریور یہ ذمہ داری سنبھالیں گے
جرمنی کے 61 سالہ جنرل بریور اس وقت ملک کے چیف آف ڈیفنس ہیں وہ 1984 میں جرمن فوج میں شامل ہوئے تھے اور نیٹو کے مشن سمیت مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں انہیں سابق جرمن چانسلر اولاف شولز نے کورونا وبا کے دوران جرمنی کے بحران سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی
کینیڈا نے مئی 2026 میں جنرل جینی کیریگنان کو اس عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا کینیڈین حکومت کے مطابق یہ نیٹو میں سب سے سینئر فوجی عہدوں میں سے ایک ہے اور اس کا چیئرمین اتحادی ممالک کے دفاعی سربراہوں کے درمیان فوجی تعاون اور حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتا ہے
جنرل کیریگنان کی ناکامی کے باوجود کینیڈا نیٹو کے اندر اہم فوجی کردار ادا کرتا رہے گا اس عہدے کے لیے کینیڈا کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی جب نیٹو روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد یورپی سلامتی، دفاعی اخراجات اور یورپ کی اپنی دفاعی ذمہ داریوں کے حوالے سے بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے
بریور 2027 میں موجودہ اطالوی چیئرمین کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں گے نیٹو کی فوجی قیادت میں ان کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب اتحاد اپنے رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے اور بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی ماحول سے نمٹنے پر توجہ دے رہا ہے

قومی خبریں سے مزید