پولیٹیکو،سی این این ، ایم ایس ناؤ پر وار، صحافیوں کے پریس پاس ضبط؛ آزادیٔ صحافت پر نیا آئینی تنازعہ

پولیٹیکو،سی این این ، ایم ایس ناؤ پر وار، صحافیوں کے پریس پاس ضبط؛ آزادیٔ صحافت پر نیا آئینی تنازعہ

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل اعلان کردہ پابندی پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہفتے کو CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا اور ان کے پریس پاسز منسوخ یا ضبط کر لیے،تینوں اداروں نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے خلاف قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
MS NOW کی وائٹ ہاؤس رپورٹر اکایلا گارڈنر اور کیمرہ مین کو صبح تقریباً 8 بجے داخلے سے روکا گیا، جبکہ CNN کی رپورٹر بیٹسی کلائن اور کیمرہ مین بھی وائٹ ہاؤس پہنچے لیکن انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ملی، پولیٹکو کی وائٹ ہاؤس رپورٹر چیئن ہیسلٹ کو بھی سیکرٹ سروس نے روک کر ان کا پاس ضبط کر لیا
ٹرمپ نے جمعہ کو تینوں میڈیا اداروں کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے ان پر ’’فیک نیوز‘‘ رپورٹ کرنے کا الزام عائد کیا تھا،انہوں نے کسی ایک مخصوص خبر کی نشاندہی نہیں کی بلکہ کہا کہ ان کا فیصلہ ان اداروں کی گزشتہ برسوں کی مجموعی کوریج کی بنیاد پر ہے،ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو بھی ’’فیک نیوز‘‘ کی مثالیں قرار دیا، تاہم ہفتے تک ان دونوں کے خلاف پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا
وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن نے صحافیوں کے پریس پاسز منسوخ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے فوری طور پر رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا،قانونی ماہرین نے بھی اس اقدام کو پہلی ترمیم کے تحت سنگین قانونی سوال قرار دیا ہے، کیونکہ امریکی آئین حکومت کو آزادیٔ صحافت پر پابندی عائد کرنے سے روکتا ہے،تاہم حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالتوں میں ہونے والے ممکنہ مقدمات سے ہوگا
یہ تنازعہ ٹرمپ انتظامیہ اور میڈیا کے درمیان جاری طویل قانونی کشمکش کا تازہ ترین مرحلہ ہے،اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کی وائٹ ہاؤس رسائی محدود کی تھی، جبکہ ٹرمپ کی پہلی مدت میں CNN کے صحافی جم اکوسٹا کا پریس پاس منسوخ کرنے کی کوشش بھی وفاقی عدالت میں چیلنج ہوئی تھی اور پاس بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا

قومی خبریں سے مزید