Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں 20 لاکھ کے لانگ مارچ سے انقلاب کے مشورے ، نیویارک میں 100 کا احتجاج؟ پی ٹی آئی کے دعووں کا دلچسپ تضاد، ویراعظم سے پہلے سفارت کاروں کے استاد اعظم کوارڈینٹر کی آمد

پاکستان میں 20 لاکھ کے لانگ مارچ سے انقلاب کے مشورے ، نیویارک میں 100 کا احتجاج؟ پی ٹی آئی کے دعووں کا دلچسپ تضاد، ویراعظم سے پہلے سفارت کاروں کے استاد اعظم کوارڈینٹر کی آمد

نیویارک:وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک پہنچ رہے ہیں، لیکن ان کے دورے کے خلاف احتجاج کا معاملہ ایک دلچسپ سیاسی سوال بن گیا ہے،پاکستان میں 20 لاکھ افراد سڑکوں پر لانے کا مشورہ ، جبکہ نیویارک میں مبینہ طور پر 100 یا 125 افراد بھی جمع ہو جائیں تو اسے بڑا احتجاج قرار دینے کی تیاری؟
پی ٹی آئی نیویارک کے صدر امجد نواز کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں 26 یا 27 ستمبر کو نیویارک میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے،ان کے مطابق پاکستان میں 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو گھروں سے نکلنا چاہیے، پنڈی سے کراچی تک ملک کو مفلوج کر دینا چاہیے اور اگر 20 لاکھ افراد سڑکوں پر آ جائیں تو عمران خان کی رہائی، انتخابات اور قانون و انصاف کی بالادستی جیسے مطالبات کے لیے سیاسی دباؤ پیدا کیا جا سکتا ہے
لیکن نیویارک کی تصویر کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے
یہاں احتجاج کو بڑا بنانے کی تیاریاں ضرور ہیں، اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرے کی بات ہو رہی ہے، ٹائمز اسکوائر کا نام بھی لیا جا رہا ہے اور مین ہٹن میں گاڑیوں کی ریلی نکالنے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے، مگر شرکا کی تعداد کے بارے میں پارٹی کے مقامی حلقوں میں جو اندازے گردش کر رہے ہیں وہ 100 سے 125 کے آس پاس ہیں
یعنی پاکستان میں ہدف 20 لاکھ، جبکہ نیویارک میں ہدف سو، سوا سو
یہ فرق اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی طویل عرصے سے امریکہ، کینیڈا اور یورپ کی پاکستانی کمیونٹی میں عمران خان کی غیر معمولی مقبولیت کا دعویٰ کرتے رہے ہیں،نیویارک، نیوجرسی اور کنیکٹیکٹ کے ٹرائی اسٹیٹ ایریا میں پاکستانیوں کی تعداد کے بارے میں بھی کمیونٹی سطح پر ڈھائی سے تین لاکھ کے اعداد و شمار بیان کیے جاتے ہیں، اگرچہ سرکاری اعداد و شمار اس سے خاصے مختلف ہیں
تو پھر سوال یہ نہیں کہ احتجاج ہوگا یا نہیں،سوال یہ ہے کہ اگر لاکھوں پاکستانیوں کے عمران خان کے حامی ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو وزیراعظم کے اقوام متحدہ کے دورے جیسے غیر معمولی موقع پر ان میں سے چند سو افراد بھی سڑک پر کیوں نہیں آتے؟
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے خطاب 25 ستمبر کو ہے، جبکہ مجوزہ احتجاج 26 یا 27 ستمبر کو ہوگا،یعنی جس وزیراعظم کے خلاف احتجاج کرنا ہے، ان کے نیویارک میں موجود ہونے کے دوران احتجاج کے بجائے ان کے خطاب کے بعد مظاہرہ ہوگا،اگر مقصد وزیراعظم کی موجودگی میں احتجاج ریکارڈ کرانا ہے تو تاریخ کا یہ فرق خود ایک سوال بن جاتا ہے
گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیراعظم کے دورۂ نیویارک کے دوران بھی پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکا کی تعداد پچیس تیس سے زیادہ نہیں تھی، اس مرتبہ مقامی کارکن اسے بڑا احتجاج بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، مگر عملی تعداد پھر 100 یا 125 کے آس پاس رہی تو 20 لاکھ کے مشورے کے ساتھ یہ فرق یقیناً سب کی توجہ حاصل کرے گا
یہ معاملہ محض پی ٹی آئی کا نہیں، اوورسیز پاکستانی سیاست کے دعووں کا بھی امتحان ہے،سوشل میڈیا پر لاکھوں کی حمایت، ویڈیوز میں زبردست جوش اور سیاسی جلسوں کے بڑے بڑے دعوے اپنی جگہ، لیکن سڑک پر نکلنے والے لوگ سیاسی طاقت کا ایک زیادہ قابلِ مشاہدہ پیمانہ ہوتے ہیں
اور یہی وہ مقام ہے جہاں نیویارک کا ممکنہ احتجاج ایک عجیب سا آئینہ بن سکتا ہے
پاکستان میں 20 لاکھ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی اپیل، اور نیویارک میں 100 لوگوں کو سڑک پر لانے کی جدوجہد
اگر واقعی سو، سوا سو افراد ہی جمع ہوتے ہیں تو سوال یہ نہیں ہوگا کہ احتجاج ناکام ہوا یا کامیاب؛ سوال یہ ہوگا کہ اوورسیز پاکستانیوں میں سیاسی حمایت کے بلند دعووں اور عملی سیاسی شرکت کے درمیان اصل فاصلہ کتنا ہے
اور شاید 26 یا 27 ستمبر کو نیویارک کی سڑکیں اسی سوال کا سب سے سادہ جواب دے دیں گی، پھر اسی کے ساتھ دلچسپ خبر یہ بھی ہے تحریک انصاف اوورسیز کے سیکریٹری سجاد برکی جو کینڈا آسٹریلیا اور امریکہ میں اسٹیبلشمنٹ مخالف ویکاگرز کے ساتھ ویلاگ کرنے اور شوکت خانم نمل یونیورسٹی کے فنڈ ریزنگ سے پاکستان میں تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک میں شرکت تک آیے دن ویلاگ کرتے دکھای دیتے ہیں اس بار بھی نیویارک میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہیں کریں گے، وزیراعظم پاکستان کے دورہ اقوام متحدہ کے اختتام کے بعد تحریک انصاف امریکہ کی جانب سے مظاہرے کے اعلان کو غیر جانبدار و آزاد تجزیہ نگار انتہائ معنی خیز قرار دے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں درون خانہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان کہیں کوئ انڈر اسٹینڈنگ موجود ہے یا معاملات میں نرمی پیدا کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان گفتگو کسی سنجیدہ اور منطقی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جسے بغیر کوئ بدمزگی پیدا کیے بغیر انجام تک پہنچانے کے لیے امریکہ میں وزیراعظم کے دورے کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے ہاتھ ہولا رکھے جانے کی حکمت عملی اپنائ جارہی ہے یا پھر دوسری صورت میں تحریک انصاف کے اوورسیز پاکستانیوں میں مقبولیت کے دعوں کے ساتھ سیاسی شعور پر نئے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں، یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں وزیراعظم پاکستان کے دورہ اقوام متحدہ کے موقع پر دورے کے ایک کوارڈینٹر رانا مشہود جو وزیراعظم کے مشیر بھی ہیں ایک بار پھر نیویارک پہنچ چکے ہیں اور کمیونٹی کے فرقہ تصویریہ سے تعلق رکھنے والے حلقے میں ہار پھول اور روٹی بوٹی کباب سے لدی سوشل میڈیا کے تصویری جشن کا حصہ بن چکے ہیں ، جبکہ کمیونٹی کے حلقے پوچھتے پھر رہے ہیں وزیراعظم کے دورہ اقوام متحدہ میں رانا مشہود کس قسم اور کن حلقوں کے درمیان کوآرڈینیشن کررہے ہیں جس کے باعث انہیں مذکورہ عہدہ تفویض کرکے نیویارک پہنچایا گیا ہے ؟ ، جوابا کچھ حلقوں کا خیال ہے ممکن ہے رانا مشہود وزیراعظم اور بین القوامی سفارت کاری کے درمیان کوئ اہم پل کا کردار ادا کرنے آئے ہوں کہ امریکہ میں موجود پاکستانی سفارت کار وزیراعظم کے اعتماد پر پورے نہ اترتے ہوں جس کے باعث انہیں پاکستان مسلم لیگ ن میں سفارتی آداب کو سمجھنے والے سب سے سینئیر اور مشاق فرد کو اپنے دورے کو کامیاب ترین بنانے کے لیے لانا پڑ گیا ہو

قومی خبریں سے مزید