جنوبی ایشیا میں سفارت کاری کی گنجائش کم ہونے سے جوہری کشیدگی کے خطرات بڑھ رہے ہیں
پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مظہر جمیل نے خبردار کیا ہے کہ روایتی ہتھیاروں پر قابو پانے کے نظام کے کمزور ہونے، سفارت کاری کی گنجائش محدود ہونے، طاقت کے استعمال پر بڑھتے ہوئے انحصار اور نئی ٹیکنالوجیز کے پھیلاؤ سے جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کو نئے خطرات کا سامنا ہے
اسلام آباد میں سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام تزویراتی امور سے متعلق تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مظہر جمیل نے کہا کہ عالمی اور علاقائی تزویراتی ماحول مسلسل پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے ان کے مطابق مستقل خطرات کا احساس، کشمیر جیسے حل طلب تنازعات اور بھارت کی فوجی حکمت عملی خطے میں مسلسل سکیورٹی کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں
مظہر جمیل نے کہا کہ تزویراتی استحکام کو بنیادی سیاسی حالات سے الگ نہیں کیا جا سکتا انہوں نے بھارت کی فوجی کارروائیوں اور جنوبی ایشیا میں بالادستی کی کوششوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے خطے میں اس طرح کےاقدامات کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں
انہوں نے مئی 2025 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2 جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ان کے مطابق پاکستان کی جوہری روک تھام کی صلاحیت، روایتی دفاعی صلاحیتیں، قومی مزاحمت اور مربوط ردعمل کا نظام اس مقصد کے لیے ہیں کہ کوئی بھی مخالف طاقت کے ذریعے اپنے سیاسی یا فوجی مقاصد حاصل نہ کر سکے
اس موقع پر اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ افیئرز میجر جنرل ریٹائرڈ سید شہاب شاہد نے کہا کہ عالمی سطح پر ہتھیاروں پر قابو پانے، تخفیف اسلحہ اور جوہری عدم پھیلاؤ کا نظام بھی بڑھتے ہوئے چیلنجز سے دوچار ہے
انہوں نے تمام ریاستوں کے جائز سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن، منصفانہ اور غیر امتیازی طریقہ اختیار کرنے پر زور دیا ان کے مطابق جوہری اور تزویراتی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ اور ان کی نوعیت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں ہونے والی نئی پیش رفت خطے کے تزویراتی ماحول کو تبدیل کر رہی ہے
سید شہاب شاہد نے خبردار کیا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے اصولوں اور سکیورٹی انتظامات کا مختلف ممالک کے لیے مختلف انداز میں اطلاق موجودہ عالمی سکیورٹی نظام پر اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے انہوں نے تزویراتی استحکام مضبوط بنانے، خطرات کم کرنے اور ہتھیاروں پر قابو پانے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا
مقررین نے یہ بھی کہا کہ نئی اور تیزی سے تبدیل ہونے والی ٹیکنالوجیز، خصوصاً ایسی ٹیکنالوجیز جو جنگ کے طریقوں کو تبدیل کر رہی ہیں، اور طاقت کے استعمال پر بڑھتا ہوا انحصار تنازعات کو روکنے اور خطرات کم کرنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے
ورکشاپ میں پاکستان کی مختلف جامعات کے سینئر اساتذہ اور ماہرین تعلیم کے علاوہ تھنک ٹینک کے ماہرین، خارجہ پالیسی کے ماہرین اور سفارت کاروں نے شرکت کی اس کا مقصد تزویراتی استحکام، جوہری روک تھام، ہتھیاروں پر قابو پانے اور جوہری عدم پھیلاؤ جیسے معاملات کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان موضوعات پر مؤثر علمی بحث کے لیے صلاحیت پیدا کرنا تھا
سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان ایک مؤثر درمیانی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے ان کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب دنیا مختلف حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے، پاکستان کی ثالثی، رابطہ کاری اور مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری کی صلاحیت اس کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے





