مصنوعی ذہانت اور بدلتی دنیا میں پاکستانی اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سیکھنے کی صلاحیت
دنیا بھر میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معاشی و جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور افرادی قوت میں آنے والی تبدیلیاں اداروں کے کام کرنے کے طریقے تبدیل کر رہی ہیں پاکستان میں بھی کاروباری ادارے بڑھتی ہوئی لاگت، غیر یقینی طلب، سپلائی میں رکاوٹوں اور مختلف انتظامی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستانی ادارے صرف تبدیلی کے لیے تیار ہیں یا نئی صورتحال سے سیکھنے کے لیے بھی تیار ہیں
رپورٹ کے مطابق کسی ادارے کی اصل طاقت صرف اس کے منافع، ترقی یا مارکیٹ میں حصے سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ بہتر فیصلے کرنے، اپنے ملازمین کو ترقی دینے، ماضی کے تجربات سے سیکھنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے
پاکستان میں بہت سے کاروباری ادارے ایسے ہیں جہاں اہم فیصلے اب بھی مالک یا کسی ایک انتہائی تجربہ کار شخص کے گرد گھومتے ہیں مشکل گاہک، بڑی سرمایہ کاری، ملازمین کی بھرتی یا روزمرہ مسائل کے حل کے لیے دیگر افسران اکثر اسی ایک شخص کی طرف دیکھتے ہیں اس طریقے سے مختصر مدت میں کام چل سکتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ادارہ ایک فرد پر زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے اور انتظامی صلاحیت چند لوگوں تک محدود رہ جاتی ہے
ایسی صورتحال کا ایک بڑا اثر جانشینی کے معاملے پر پڑتا ہے کسی ادارے کے لیے صرف اگلا سربراہ یا خاندان کا اگلا فرد مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ادارے میں ایسے افراد تیار کیے جائیں جو آزادانہ فیصلے کر سکیں، مشکل ذمہ داریاں سنبھال سکیں اور ادارے کے اہم تجربات اور معلومات کو چند افراد تک محدود نہ رہنے دیں
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی صرف یہ سوال کافی نہیں کہ کون سے کام اے آئی کے ذریعے خودکار بنائے جا سکتے ہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جب معمول کے کام تبدیل ہوں گے تو ادارے کو کن نئی صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی اے آئی کام کرنے کے طریقے، مطلوبہ مہارتوں اور صارفین کی توقعات کو تبدیل کر سکتی ہے، لیکن صرف نئی ٹیکنالوجی خرید لینے سے کسی ادارے کا انتظامی کلچر خود بخود تبدیل نہیں ہوتا
اگر کسی ادارے میں ملازمین پہلے بھی اعلیٰ انتظامیہ کو بری خبر بتانے سے گھبراتے تھے تو نئی ٹیکنالوجی یا نئے نظام کے آنے کے بعد بھی یہ مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے اسی طرح اگر مینیجرز کو صرف اپنے ذاتی نتائج پر انعام دیا جائے تو وہ دوسروں کی صلاحیتیں بڑھانے پر کم توجہ دے سکتے ہیں ادارہ اسی وقت حقیقی معنوں میں سیکھتا ہے جب تجربات اس کے رویے اور فیصلوں میں تبدیلی پیدا کریں
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تجربہ کار افراد کا احترام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ادارے میں ایسا ماحول بھی ہونا چاہیے جہاں نوجوان ملازمین نئی ٹیکنالوجی، صارفین کی بدلتی ضروریات اور مستقبل کے رجحانات کے بارے میں اپنی رائے پیش کر سکیں تجربہ اور نئی سوچ کے درمیان بہتر رابطہ ادارے کو بدلتے حالات کے لیے زیادہ تیار بنا سکتا ہے
پاکستانی اداروں کے لیے مستقبل کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ ہر نئی عالمی انتظامی یا ٹیکنالوجی کی روایت کی نقل کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایسے ادارے بنیں جو مسلسل سیکھ سکیں، اپنے لوگوں کو تیار کریں، ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے استعمال کریں اور حالات بدلنے سے پہلے خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں





