ٹرمپ کے نئے محصولات کینیڈا کے خلاف غلط فیصلہ ہیں، مارک کارنی
وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے محصولات عائد کرنا کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ میں ایک غلط فیصلہ ہے انہوں نے یہ بات جمعہ کو اوٹاوا میں لبرل ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی
کارنی نے کہا کہ کینیڈا نے گزشتہ ماہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے الگ ہو کر درست فیصلہ کیا تھا کیونکہ واشنگٹن کی پیشکش کینیڈا کے لیے قابل قبول نہیں تھی اور امریکا کی جانب سے جو مطالبات کیے گئے تھے انہیں قبول نہیں کیا جا سکتا تھا ان کے مطابق جب امریکا دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہوگا تو کینیڈا بھی نیک نیتی کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت کرے گا
وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے محصولات کینیڈا کے کارکنوں، کمپنیوں اور کمیونٹیز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھنا چاہتا ہے
کارنی نے یہ بھی کہا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ملک کی خودمختاری کو متاثر کرے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہونے والے تجارتی معاہدے میں کینیڈا کی سرکاری زبانوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا
یورپ کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کارنی نے کہا کہ کینیڈا نے یورپ کے ساتھ ایک نئے اتحاد کے لیے عمل شروع کر دیا ہے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے اس ہفتے کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ’’ایسوسی ایٹ رکن‘‘ بنانے کی تجویز پیش کی تھی کارنی نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب میں کینیڈا اور یورپ کے درمیان تجارت، دفاع، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی حمایت کی
کارنی نے لبرل ارکان کو بتایا کہ حکومت خزاں کے پارلیمانی اجلاس میں بچوں کو آن لائن جنسی استحصال، سائبر ہراسانی اور پرتشدد مواد سے تحفظ دینے کے لیے سوشل میڈیا سے متعلق نیا قانون بھی متعارف کرائے گی
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ نئی شراکت داری کی حتمی شکل ابھی طے نہیں ہوئی کینیڈین حکام کے مطابق ایسوسی ایٹ رکنیت کی اصطلاح کی یورپی یونین کے موجودہ قوانین میں کوئی باقاعدہ قانونی حیثیت نہیں، جبکہ کینیڈا نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے پر پارلیمنٹ میں بحث اور ووٹنگ ہوگی





