3 بہنوں اور ماں کے قتل میں عمر قید پانے والے حامد شفیعہ کو جیل سے باہر جانے کی اجازت
کینیڈا میں اپنی 3 بہنوں اور سوتیلی ماں کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے حامد شفیعہ کو پیرول بورڈ آف کینیڈا نے جیل سے محدود مدت کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے، تاہم اسے مسجد جانے کے لیے الگ سے دی گئی درخواست مسترد کر دی گئی
34 سالہ حامد شفیعہ نے جمعہ کو ہونے والی سماعت میں اپنے ماضی کے اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے وقت وہ خود کو یہ سمجھاتا رہا کہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اور وہ صرف اپنے والد کے اقدامات میں ساتھ دے رہا تھا تاہم اب اس نے اعتراف کیا کہ وہ صرف ساتھ نہیں دے رہا تھا بلکہ قتل کی کارروائی میں اپنے والد کی مدد بھی کر رہا تھا
حامد شفیعہ اور اس کے والدین کو جنوری 2012 میں 4 افراد کے فرسٹ ڈگری قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا مقتولین میں اس کی بہنیں زینب 19 سال، سحر 17 سال اور گیتی 13 سال کے علاوہ اس کے والد کی پہلی بیوی رونا امیر محمد 52 سال شامل تھیں ان چاروں کی لاشیں جون 2009 میں کنگسٹن کے رائیڈو کینال میں ایک گاڑی سے برآمد ہوئی تھیں
حامد شفیعہ اس وقت درمیانے درجے کی سکیورٹی والی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے فرسٹ ڈگری قتل کی سزا کے تحت اسے 25 سال تک پیرول کا حق حاصل نہیں ہے اونٹاریو کی اعلیٰ عدالت نے بھی اس کی اپیل مسترد کر دی تھی جبکہ کینیڈا کی سپریم کورٹ نے 2017 میں اس کی درخواست سننے سے انکار کر دیا تھا
سماعت کے دوران حامد شفیعہ نے کہا کہ نوجوانی میں اس کے ذہن میں خواتین پر قابو رکھنے کے لیے کچھ ایسے نظریات پیدا کیے گئے تھے جنہیں مذہب کی غلط تشریح کے ذریعے درست ثابت کیا جاتا تھا اس نے کہا کہ اب وہ سمجھتا ہے کہ ہر شخص اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتا ہے اور کسی دوسرے شخص کو اس پر قابو پانے کا حق نہیں ہونا چاہیے
پیرول بورڈ کے رکن مائیک بوسیو نے کہا کہ حامد شفیعہ نے خاصی پیش رفت کی ہے اور اپنے ماضی کے رویے کے بارے میں سمجھ بوجھ حاصل کی ہے، تاہم ابھی مزید کام کی ضرورت ہے اور اسے مرحلہ وار آگے بڑھنا چاہیے اسی بنیاد پر بورڈ نے اسے کم سکیورٹی والی جیل کا مختصر دورہ کرنے کی اجازت دی، لیکن کنگسٹن کی ایک مسجد جانے کے لیے اس کی دوسری درخواست مسترد کر دی
جیل حکام کے مطابق حامد شفیعہ نے دوران قید تشدد کی روک تھام سمیت کئی پروگرام مکمل کیے ہیں اس نے جیل کے امام کے ساتھ بھی انفرادی نشستوں میں حصہ لیا، جن میں خواتین کے خلاف نفرت انگیز رویوں اور نام نہاد عزت سے متعلق انتہا پسندانہ نظریات پر کام کیا گیا حکام کے مطابق ان سرگرمیوں کے بارے میں مثبت رپورٹس سامنے آئی ہیں
کینیڈا کے قانون کے تحت بعض حالات میں قیدی کو اصلاحی، طبی، خاندانی یا دیگر مخصوص مقاصد کے لیے محدود اور باقاعدہ شرائط کے تحت عارضی طور پر جیل سے باہر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ حکام اسے معاشرے کے لیے غیر ضروری خطرہ نہ سمجھیں اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ موجود ہو





