میرے بیٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش‘‘، یہودی شناخت پر خواجہ آصف کے بیان کا جمائما گولڈ اسمتھ نے جواب دے دیا

میرے بیٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش‘‘، یہودی شناخت پر خواجہ آصف کے بیان کا جمائما گولڈ اسمتھ نے جواب دے دیا

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے یہودی شناخت سے متعلق بیان پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر دفاع کا مؤقف اگر ان کے بیٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے تو یہی اصول ان کی اپنی خاندانی شناخت پر بھی لاگو ہوتا ہے
خواجہ آصف نے جمعرات کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ یہودیت کی مرکزی مذہبی روایت کے مطابق کسی شخص کی یہودی شناخت کا تعین ماں کی نسبت سے ہوتا ہے،ان کے مطابق اگر کسی شخص کی ماں یہودی ہو تو والد کا مذہب کچھ بھی ہو، وہ شخص یہودی تصور کیا جاتا ہے،انہوں نے اس اصول کی تاریخی وجہ بھی بیان کی اور کہا کہ ماضی میں مادری نسبت زیادہ یقینی سمجھی جاتی تھی جبکہ جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی دستیاب نہیں تھی
جمائما گولڈ اسمتھ نے جمعہ کو ایکس پر خواجہ آصف کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کی بات اصولی طور پر درست ہے، تاہم اسی اصول کے تحت انہیں خود بھی یہودی تسلیم نہیں کیا گیا،جمائما کے مطابق ان کی والدہ چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ پروٹسٹنٹ تھیں، جبکہ ان کے والد کی والدہ فرانسیسی کیتھولک تھیں
جمائما نے مزید کہا کہ ان کے خاندان کے بارے میں اسی اصول کا اطلاق کرنے سے ان کے والد بھی یہودی قرار نہیں پاتے،انہوں نے خواجہ آصف پر الزام لگایا کہ ان کے بیٹوں کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی کوشش میں وزیر دفاع نے خود کو ہی مشکل صورتحال میں ڈال لیا
عمران خان اور جمائما گولڈ اسمتھ کی شادی 1995 میں ہوئی تھی اور دونوں 2004 میں علیحدہ ہوگئے،ان کے دو بیٹے سلیمان اور قاسم ہیں، جو برطانوی شہری ہیں،حالیہ برسوں میں دونوں نے اپنے والد کی قید اور ان سے ملاقات نہ ہونے کے معاملے پر عوامی سطح پر بات کی ہے
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد اور ان کے والد سے ملاقات کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے،اگست میں خواجہ آصف کی جانب سے سلیمان اور قاسم کے نائکوپ سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے پر بھی تنقید ہوئی تھی
یہودی مذہبی شناخت کے بارے میں یہ بھی واضح رہے کہ مختلف یہودی مذہبی روایات میں اصول یکساں نہیں ہیں،روایتی یہودی قانون میں مادری نسبت بنیادی اصول ہے، جبکہ بعض جدید یہودی تحریکیں مخصوص شرائط کے تحت والد یا والدہ دونوں میں سے کسی ایک کی نسبت کو تسلیم کرتی ہیں

قومی خبریں سے مزید