مشی گن سینیٹ دوڑ میں دو متضاد تصویریں، نئے پولز میں عبدالسید آگے مگر روگرز اب بھی انتہائی قریب
مشی گن کی سینیٹ نشست کے لیے مقابلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل انتہائی سخت ہو گیا ہے،17 ستمبر کو سامنے آنے والے واشنگٹن پوسٹ اور ایمَرسن کالج کے دو تازہ پولز میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو ریپبلکن امیدوار اور سابق رکن کانگریس مائیک روگرز پر معمولی برتری حاصل ہے، تاہم دونوں نتائج کے مارجن آف ایرر کو دیکھتے ہوئے یہ فرق شماریاتی طور پر فیصلہ کن نہیں ہے
واشنگٹن پوسٹ اور جارج میسن یونیورسٹی کے شار اسکول کے سروے میں عبدالسید کو 48 فیصد اور روگرز کو 45 فیصد حمایت ملی،یہ 3 فیصد پوائنٹس کی برتری ہے، جبکہ سروے کا مارجن آف ایرر 3.9 فیصد پوائنٹس ہے،سروے 10 سے 14 ستمبر کے دوران 803 ممکنہ ووٹرز سے کیا گیا تھا
ایمَرسن کالج اور نیکسٹار میڈیا کے سروے میں بھی عبدالسید 48 فیصد کے ساتھ آگے ہیں جبکہ روگرز کو 46 فیصد حمایت حاصل ہے اور 4 فیصد ووٹرز تاحال غیر فیصلہ شدہ ہیں،یہ سروے 12 سے 14 ستمبر کے دوران 1,000 ممکنہ ووٹرز سے کیا گیا اور اس کا مارجن تقریباً 3 فیصد پوائنٹس ہے،تعلیمی تقسیم نمایاں ہے،چار سالہ کالج ڈگری نہ رکھنے والے ووٹرز میں روگرز کو 48 فیصد جبکہ عبدالسید کو 45 فیصد حمایت ملی، جبکہ کالج گریجویٹس میں عبدالسید 53 فیصد کے مقابلے میں روگرز کے 42 فیصد پر ہیں
لیکن اگست کے فاکس نیوز پول کی تصویر اس سے مختلف تھی،6 سے 10 اگست کے دوران 1,006 رجسٹرڈ ووٹرز پر کیے گئے فاکس نیوز سروے میں روگرز کو 51 فیصد اور عبدالسید کو 47 فیصد حمایت حاصل ہوئی تھی،اس سروے کا مارجن آف ایرر 3 فیصد پوائنٹس تھا،فاکس کے مطابق روگرز کو ریپبلکن ووٹرز میں مضبوط حمایت حاصل تھی، جبکہ عبدالسید کو زیادہ متحرک ڈیموکریٹ ووٹرز میں برتری حاصل تھی
فاکس نیوز کی 17 ستمبر کی ایک الگ رپورٹ میں مشی گن کے بڑے اخبار ڈیٹرائٹ نیوز کی روگرز کی حمایت کو بھی انتخابی مہم کے اہم عنصر کے طور پر پیش کیا گیا،اخبار نے عبدالسید کے ماضی کے بعض سوشل میڈیا پیغامات اور تقریباً 100 پرانی یوٹیوب ویڈیوز حذف یا ہٹائے جانے پر سوالات اٹھائے،عبدالسید کی مہم کا مؤقف ہے کہ پرانی پوسٹس کو سیاق و سباق سے ہٹا کر استعمال کیے جانے سے روکنے کے لیے انہیں ہٹایا گیا، جبکہ مہم نے 11 ستمبر کے موقع پر واضح کیا کہ عبدالسید دہشت گردی اور 9/11 حملوں کی ہمیشہ واضح طور پر مذمت کرتے رہے ہیں
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عبدالسید کے لیے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ مشی گن کے 48 فیصد ممکنہ ووٹر انہیں ’’بہت زیادہ لبرل‘‘ سمجھتے ہیں، جبکہ 43 فیصد روگرز کو ’’بہت زیادہ قدامت پسند‘‘ قرار دیتے ہیں،دوسری طرف تقریباً 6 میں سے 10 ممکنہ ووٹر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں اور 53 فیصد چاہتے ہیں کہ اگلے سال سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس ہو، لیکن سینیٹ کے امیدوار کی سطح پر عبدالسید کو اس مجموعی ڈیموکریٹک رجحان جتنی حمایت حاصل نہیں ہو رہی
یوں تینوں اداروں کے اعداد و شمار کو ایک ساتھ رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دو تازہ ستمبر سرویز میں عبدالسید معمولی سبقت پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ اگست کے فاکس نیوز سروے میں روگرز معمولی آگے تھے،دونوں امیدواروں کے درمیان فرق مسلسل مارجن آف ایرر کے اندر یا اس کے قریب رہا ہے، اس لیے موجودہ پولز کو کسی حتمی انتخابی نتیجے کے بجائے ایک انتہائی قریبی مقابلے کی تصویر کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے





