ستیہ نکیتن سانحے کے بعد دہلی میں بلڈوزر ایکشن تیز، 13 دن میں 397 جائیدادوں پر انہدام اور 152 سیل، مسلم علاقوں میں بھی کارروائی
دہلی میں ستیہ نکیتن میں 6 ستمبر کو پانچ منزلہ عمارت گرنے اور 7 افراد، جن میں 5 طلبہ شامل تھے، کی ہلاکت کے بعد میونسپل کارپوریشن آف دہلی، ایم سی ڈی نے غیر مجاز تعمیرات اور خطرناک عمارتوں کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے،ایم سی ڈی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 6 سے 18 ستمبر کے دوران 397 جائیدادوں پر انہدامی کارروائی کی گئی جبکہ 152 جائیدادوں کو سیل کیا گیا،اسی عرصے میں غیر مجاز تعمیرات کے حوالے سے 310 شوکاز نوٹس، سیلنگ سے متعلق 178 نوٹس اور 80 انہدامی احکامات جاری کیے گئے
صرف 18 ستمبر کو ایم سی ڈی نے 41 جائیدادوں کے خلاف انہدامی کارروائی کی، 10 کو سیل کیا، غیر مجاز تعمیرات پر 42 شوکاز نوٹس اور سیلنگ سے متعلق 44 نوٹس جاری کیے جبکہ 7 جائیدادوں کے انہدام کے احکامات بھی جاری کیے گئے
یہ کارروائی صرف ستیہ نکیتن تک محدود نہیں رہی،ایم سی ڈی نے جمیعہ نگر، شاہین باغ، مکّر جی نگر، لکشمی نگر، وشواس نگر، تلک نگر، کرول باغ، رامیش نگر، چاندنی چوک اور نہرو وہار سمیت دہلی کے مختلف علاقوں میں بھی غیر قانونی تعمیرات اور عمارتوں کے خلاف کارروائی کی ہے
اقلیتی آبادی کے حوالے سے دستیاب سرکاری اعداد میں یہ تفصیل موجود نہیں کہ 397 انہدامی کارروائیوں یا 152 سیل کی گئی جائیدادوں میں کتنی مسلم یا دیگر اقلیتی ملکیت تھیں،تاہم جمیعہ نگر اور شاہین باغ جیسے علاقوں کا نام کارروائی کی فہرست میں شامل ہونا اہم ہے، کیونکہ یہ دہلی کے نمایاں مسلم آبادی والے علاقوں میں شمار ہوتے ہیں،اس لیے اس مرحلے پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کارروائی کا کوئی مخصوص تناسب مسلمانوں کی جائیدادوں پر مشتمل ہے، جب تک ایم سی ڈی ملکیت اور مذہبی شناخت کے حوالے سے باقاعدہ اعداد جاری نہ کرے
شاہین باغ میں ایم سی ڈی کی کارروائی کا ایک الگ قانونی ریکارڈ بھی موجود ہے،جون 2026 کے ایک عدالتی فیصلے میں شاہین باغ کی ایک جائیداد کے خلاف غیر مجاز تعمیر پر پہلے جاری کیے گئے انہدام اور سیلنگ کے احکامات کا ذکر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے میں بعض کارروائیاں موجودہ ستمبر کی مہم سے پہلے بھی قانونی اور انتظامی سطح پر جاری تھیں
ایم سی ڈی کے مطابق ستیہ نکیتن سانحے کے بعد کارروائی دراصل پہلے سے جاری غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم کا مزید تیز مرحلہ ہے،یکم جون سے 3 ستمبر تک بھی 983 جائیدادوں پر انہدامی کارروائی، 464 جائیدادوں کی سیلنگ اور 1,516 شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے تھے،ایم سی ڈی نے تقریباً 3 لاکھ جائیدادوں پر مشتمل 404 کالونیوں اور 168 وارڈز کا سروے بھی کیا، جس میں رہائشی جائیدادوں کے تجارتی استعمال کے 8 ہزار سے زیادہ کیس سامنے آئے
ستیٰ نکیتن حادثے کے بعد ایم سی ڈی نے پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں کی بھی وسیع پیمانے پر جانچ شروع کی،11 ستمبر تک 1,523 پی جی عمارتوں کا سروے کیا جا چکا تھا، جن میں 1,472 محفوظ قرار دی گئیں، 45 میں معمولی مرمت کی ضرورت پائی گئی، 10 میں بڑی مرمت درکار تھی جبکہ 3 عمارتوں کو خطرناک قرار دے کر انہدام کا حکم دیا گیا
یوں ستیہ نکیتن میں 7 افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی کارروائی اب دہلی بھر میں بڑے پیمانے کی شہری مہم بن چکی ہے،تاہم اقلیتی یا مسلم ملکیت والی جائیدادوں کے بارے میں حتمی تناسب ابھی سرکاری ریکارڈ میں سامنے نہیں آیا، اس لیے اس پہلو پر کسی مخصوص تعداد یا فیصد کا دعویٰ فی الحال قابل تصدیق نہیں





