ایف بی آئی کی آئی سی ای اہلکاروں کو عجیب وارننگ، جعلی ڈیٹنگ پروفائلز کے ذریعے شناخت ظاہر کرنے کا خدشہ
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں کو خبردار کیا ہے کہ کچھ خواتین مبینہ طور پر جعلی آن لائن ڈیٹنگ پروفائلز بنا کر امیگریشن اہلکاروں کو تعلقات کی طرف راغب کرنے، ان کی شناخت معلوم کرنے اور پھر انہیں ڈاکسنگ یعنی ذاتی معلومات عوام کے سامنے ظاہر کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں،یہ بات فروری 2026 میں جاری کیے گئے ایف بی آئی کے ایک میمو میں سامنے آئی، جسے سرکاری ریکارڈز کی درخواست کے ذریعے حاصل کیا گیا
میمو میں کہا گیا کہ جنوری 2026 کے آخر تک ایک چھوٹا گروپ مبینہ طور پر ایسے جعلی ڈیٹنگ اکاؤنٹس استعمال کررہا تھا،ایف بی آئی کے مطابق ان پروفائلز کا مقصد قانون نافذ کرنے والے ایسے اہلکاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا جو امیگریشن کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں، تاکہ بعد میں ان کی شناخت اور ذاتی معلومات سامنے لائی جاسکیں
رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے خاص طور پر ایسے پروفائلز سے محتاط رہنے کا کہا جن میں خواتین خود کو روایتی قدامت پسند گھریلو زندگی پسند کرنے والی “tradwife” کے طور پر پیش کریں یا ICE اہلکاروں کے بارے میں غیر معمولی طور پر مثبت رویہ ظاہر کریں،تاہم دستیاب دستاویزات میں اس مبینہ منصوبے کے پیمانے یا اس میں شامل خواتین کی تعداد کے بارے میں ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے
ایف بی آئی کی وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی جب ICE اہلکاروں کی شناخت ظاہر کرنے اور ان کی نگرانی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے،دیگر سرکاری انٹیلی جنس رپورٹس میں بھی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تصاویر، گاڑیوں اور سرگرمیوں کو آن لائن شیئر کیے جانے کے خطرات کا ذکر کیا گیا ہے، اگرچہ بعض انتباہات میں مخصوص خطرات کے شواہد محدود تھے
رپورٹ کے مطابق سول لبرٹیز کے حامیوں نے ایسے خدشات کے شواہد اور دائرہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ وفاقی حکام کا مؤقف ہے کہ ICE اہلکاروں کو شناخت ظاہر کیے جانے اور ممکنہ دھمکیوں سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے





