“No Vote No Hope “
دہلی میں ووٹر فہرستوں کی ’صفائی‘، ہزاروں جنسی کارکنوں کے ووٹ ختم ہونے کا خدشہ؛ مستقل پتہ اور دستاویزات سب سے بڑی رکاوٹ
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے معروف ریڈ لائٹ علاقے جی بی روڈ میں کام کرنے والی ہزاروں جنسی کارکن خواتین ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے،گارڈین کی رپورٹ کے مطابق مستقل رہائش، شناختی دستاویزات اور باقاعدہ پتہ نہ ہونے کے باعث ان خواتین کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے
جی بی روڈ میں تقریباً 2,800 جنسی کارکن خواتین رہتی اور کام کرتی ہیں،یہ علاقہ دن کے وقت پرانی دہلی کی مصروف تجارتی سڑکوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم شام کے بعد یہاں موجود عمارتوں کی بالائی منزلوں پر قائم کوٹھے شہر کے نمایاں ریڈ لائٹ علاقے میں تبدیل ہوجاتے ہیں
رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے ووٹر فہرستوں کو درست اور صاف کرنے کی مہم کے دوران ایسے افراد خاص طور پر متاثر ہورہے ہیں جن کے پاس مستقل گھر یا مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں،دہلی کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ اس انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متاثر ہوا ہے، جبکہ جنسی کارکن خواتین کے لیے اپنی رہائش اور شناخت ثابت کرنا ایک بڑی مشکل بن گیا ہے
جی بی روڈ کی متعدد خواتین ایسی عمارتوں میں رہتی ہیں جہاں ان کا کام بھی ہوتا ہے اور رہائش بھی، لیکن ان کے نام پر مستقل رہائشی پتہ نہیں،ایسی صورت میں انتخابی فہرست میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لیے درکار دستاویزات فراہم کرنا ان کے لیے مشکل ہوسکتا ہے
گارڈین کے مطابق اس عمل کا بنیادی مقصد انتخابی فہرستوں سے غلط یا غیر متعلقہ اندراجات ختم کرنا ہے، تاہم انسانی حقوق اور ووٹر حقوق سے وابستہ کارکنوں کو خدشہ ہے کہ ایسے افراد بھی فہرستوں سے باہر ہوسکتے ہیں جو حقیقت میں دہلی میں رہتے ہیں اور ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں
جی بی روڈ کی خواتین کے لیے معاملہ صرف ووٹ کے حق تک محدود نہیں، بلکہ انتخابی فہرست میں نام موجود ہونا ان کی سرکاری شناخت اور شہری حیثیت ثابت کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے،دستاویزات اور مستقل رہائش سے محرومی کے باعث ان کا انتخابی عمل سے باہر ہونا ان کی پہلے سے موجود سماجی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتا ہے





