ٹرمپ انتظامیہ کی تیسری ملکوں میں ڈی پورٹیشن پالیسی کو بڑا عدالتی جھٹکا، اپیل کورٹ نے فوری بے دخلی روک دی

ٹرمپ انتظامیہ کی تیسری ملکوں میں ڈی پورٹیشن پالیسی کو بڑا عدالتی جھٹکا، اپیل کورٹ نے فوری بے دخلی روک دی

امریکی وفاقی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت تارکین وطن کو ان کے آبائی ملک کے بجائے ایسے ’’تیسرے ملک‘‘ میں تیزی سے ڈی پورٹ کیا جا سکتا تھا جہاں وہ کبھی رہے ہی نہیں اور ان کے کوئی روابط بھی نہیں تھے،بوسٹن میں قائم فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین ججوں پر مشتمل پینل نے قرار دیا کہ ایسے افراد کو ملک بدر کرنے سے پہلے انہیں اپنے خلاف کارروائی پر مؤثر طور پر اعتراض اٹھانے کا موقع دینا ضروری ہے
عدالت نے نچلی عدالت کے فروری کے فیصلے کو بڑی حد تک برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے افراد کو تیسرے ملک بھیجنے سے پہلے مناسب نوٹس اور ان خدشات کے اظہار کا موقع دے کہ انہیں وہاں تشدد یا ظلم و ستم کا سامنا ہو سکتا ہے،عدالت کے مطابق محض متعلقہ ملک کی جانب سے یہ سفارتی یقین دہانی کافی نہیں کہ وہاں ڈی پورٹ کیے جانے والوں پر تشدد یا ظلم نہیں ہوگا
یہ پالیسی ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ 2025 میں تیز رفتار ملک بدری کے عمل کے تحت متعارف کرائی تھی،عدالتی کارروائی میں بتایا گیا کہ اس پالیسی کے تحت 25 ہزار سے زیادہ تارکین وطن کو کم از کم 29 تیسرے ملکوں میں بھیجا جا چکا ہے، بعض معاملات میں انہیں پہلے سے مناسب اطلاع یا قانونی اعتراض کا مؤثر موقع نہیں دیا گیا،بعض صورتوں میں نوٹس انتہائی مختصر، حتیٰ کہ تقریباً 6 گھنٹے کا بھی رہا
گزشتہ انتظامیہ کے دور میں بھی تیسرے ملکوں میں ڈی پورٹیشن کا استعمال ہوا تھا، تاہم عام طور پر زیرحراست افراد کو بتایا جاتا تھا کہ انہیں کس ملک بھیجا جا رہا ہے اور انہیں یہ موقع دیا جاتا تھا کہ اگر انہیں وہاں تشدد یا سیاسی و مذہبی ظلم و ستم کا خدشہ ہو تو وہ قانونی تحفظ طلب کر سکیں
تازہ عدالتی فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے پروگرام کے اس حصے پر اہم قانونی پابندیاں عائد ہوگئی ہیں،انتظامیہ اس فیصلے کو امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے، کیونکہ اس مقدمے کے سابقہ مراحل میں بھی سپریم کورٹ سے مداخلت کی جا چکی ہے

قومی خبریں سے مزید