ایران جنگ کی امریکی قیمت 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پینٹاگون نے کانگریس کو تفصیلات بتا دیں
ایران جنگ میں امریکی فوج کے اخراجات 3 ستمبر تک 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں،امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے کانگریس کی قومی سلامتی سے متعلق کمیٹیوں کو دی گئی تازہ تفصیلات کے مطابق یہ رقم جنگ شروع ہونے کے بعد سامنے آنے والا اب تک کا تازہ ترین تخمینہ ہے
رپورٹ کے مطابق اس رقم میں سب سے بڑا حصہ امریکی فوج کے استعمال کیے گئے ہتھیاروں اور گولہ بارود کا ہے،امریکی فوج نے بموں، میزائلوں اور ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز سمیت استعمال ہونے والے جنگی سازوسامان کی جگہ نئے ذخائر حاصل کرنے کے لیے 28.1 ارب ڈالر مختص کیے ہیں،یہ رقم ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں 21.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 28.1 ارب ڈالر ہوگئی
پینٹاگون کے تازہ تخمینے میں جنگی کارروائیوں کے آپریشنل اخراجات، فوجی سازوسامان کے نقصانات اور دیگر فوجی ضروریات بھی شامل ہیں،نیوی، ایئر فورس اور آرمی کے اخراجات کی الگ تفصیلات بھی کانگریس کو فراہم کی گئی ہیں
تاہم 43.6 ارب ڈالر کا تخمینہ جنگ کی مکمل مالی لاگت نہیں ہے،اس میں مشرق وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے تباہ یا متاثر ہونے والے امریکی فوجی اڈوں، عمارتوں اور تنصیبات کی مرمت یا دوبارہ تعمیر کے اخراجات شامل نہیں،امریکی حکام کے مطابق ان نقصانات کی لاگت بھی اربوں ڈالر ہوسکتی ہے
اس سے قبل کانگریشنل بجٹ آفس نے اندازہ لگایا تھا کہ یکم اگست تک جنگ پر تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے اور لڑائی کی شدت کے مطابق مستقبل میں امریکی اخراجات تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر ماہانہ بڑھ سکتے ہیں
جمعہ کو سامنے آنے والی ایک الگ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے کانگریس کو مزید 1.5 ارب ڈالر کے اضافی ایندھن کے اخراجات سے بھی آگاہ کیا ہے، جس کے بعد بعض ذرائع کے مطابق مجموعی لاگت 45.1 ارب ڈالر تک بنتی ہے،تاہم 43.6 ارب ڈالر 3 ستمبر تک امریکی سینٹرل کمانڈ کا باقاعدہ جنگی لاگت کا تخمینہ ہے، جبکہ 45.1 ارب ڈالر کی رقم میں بعد کے اضافی ایندھن کے اخراجات شامل ہیں





