CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کا اخراج؟ ٹرمپ کا فوری پابندی کا اعلان، مزید میڈیا اداروں کو بھی دھمکی

CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کا اخراج؟ ٹرمپ کا فوری پابندی کا اعلان، مزید میڈیا اداروں کو بھی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ 18 ستمبر کو CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے فوری طور پر بین کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید میڈیا اداروں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دے دیا،ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تینوں اداروں پر اپنی انتظامیہ کے بارے میں ’’فیک نیوز‘‘ رپورٹ کرنے کا الزام عائد کیاہے
ٹرمپ نے لکھا کہ یہ پابندی ’’فوری طور پر‘‘ نافذ ہوگی اور دیگر ’’فیک نیوز میڈیا‘‘ اداروں کے نام بھی بعد میں سامنے آسکتے ہیں،بعد ازاں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان اداروں کو اپنے دفتر یا وائٹ ہاؤس میں نہیں دیکھنا چاہتے اور پابندی کو جہاں تک ممکن ہو، نافذ کیا جائے گا
تاہم اعلان کے فوراً بعد صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں تھی۔ CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کے صحافی جمعہ کی سہ پہر تک وائٹ ہاؤس میں معمول کے مطابق کام کر رہے تھے اور یہ واضح نہیں تھا کہ انتظامیہ پابندی کو کس طریقے سے نافذ کرے گی، آیا صحافیوں کے پاسز منسوخ کیے جائیں گے یا انہیں پریس بریفنگز، صدارتی تقریبات اور وائٹ ہاؤس پریس پول سے نکالا جائے گا
ٹرمپ کے اعلان نے امریکی آئین کی پہلی ترمیم اور آزادیٔ صحافت سے متعلق ایک نیا قانونی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے،CNN نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اپنے وائٹ ہاؤس بیورو اور اپنی رپورٹنگ پر قائم ہے اور آئین کے تحت حکومت کی مداخلت کے بغیر رپورٹنگ کا حق رکھتا ہے،ماہرینِ آئینی قانون کے مطابق اگر پابندی میڈیا اداروں کی حکومت پر تنقید کرنے والی کوریج کی بنیاد پر عائد کی جاتی ہے تو اس کے خلاف عدالت میں چیلنج کا امکان ہے
یہ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان جاری طویل تنازعہ میں ایک اور اہم پیش رفت ہے،اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی بھی محدود کی تھی، جس پر اے پی نے عدالت سے رجوع کیا

قومی خبریں سے مزید