محمود خلیل کی گرفتاری اور 104 روزہ حراست کی داستان، نئی کتاب میں امریکی امیگریشن پالیسی پر سوالات
کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی طالب علم محمود خلیل نے اپنی نئی یادداشت No Land to Stand On میں مارچ 2025 میں گرفتاری، امیگریشن حراست اور اس کے بعد جاری قانونی جنگ کی تفصیلات بیان کی ہیں،برطانوی اخبار گارڈین کے کتابی جائزے کے مطابق خلیل کی کتاب ان کے 104 روزہ حراستی تجربے اور اس دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہے
خلیل کولمبیا یونیورسٹی میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہے تھے جب 8 مارچ 2025 کو امریکی امیگریشن حکام نے انہیں نیویارک میں گرفتار کیا،انہیں بعد میں لوزیانا کے ایک امیگریشن حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا،خلیل امریکی مستقل رہائشی یعنی گرین کارڈ ہولڈر تھے
امریکی حکومت نے ان کے خلاف ایک ایسے امیگریشن قانون کا استعمال کرنے کی کوشش کی جس کے تحت وزیر خارجہ کسی غیر شہری کی موجودگی کو امریکی خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ قرار دے کر اسے ملک سے نکالنے کی کارروائی شروع کر سکتا ہے،خلیل کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی ان کے آزادی اظہار کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے
وفاقی عدالت نے جون 2025 میں قرار دیا کہ خلیل کو امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد پر حراست میں رکھنا قابل قبول نہیں، جبکہ بعد میں انہیں حراست سے رہا کر دیا گیا،ان کی امیگریشن اور ممکنہ ملک بدری کا معاملہ اس کے باوجود قانونی طور پر جاری رہا
گارڈین کے مطابق خلیل اپنی کتاب میں حراست کے دوران پیش آنے والے تجربات، کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور اپنے خلاف ہونے والی قانونی کارروائی کو بیان کرتے ہیں،کتاب میں ان کے خاندان پر پڑنے والے اثرات بھی شامل ہیں، جن میں حراست کے دوران اپنے بیٹے کی پیدائش سے محروم رہنا بھی شامل ہے
خلیل کی قانونی جدوجہد اب بھی جاری ہے،ستمبر 2026 میں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ یونیورسٹی نے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے والے طلبہ کو مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں سے مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا،یونیورسٹی نے جاری مقدمے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا
No Land to Stand On میں خلیل نے اپنی حراست اور قانونی جنگ کو ایک ایسے شخص کے تجربے کے طور پر پیش کیا ہے جو امریکی مستقل رہائشی ہونے کے باوجود امیگریشن حراست اور ملک بدری کی کارروائی کا سامنا کر رہا تھا





