سپریم کورٹ سے رہائی کا حکم، چند گھنٹوں بعد پھر گرفتاری؛ ایمان مزاری اور حادی چٹھہ کے خلاف پرانا مقدمہ کیوں زندہ ہوگیا؟
اسلام آباد میں ایک غیر معمولی قانونی پیش رفت کے دوران انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر وکیل حادی علی چٹھہ سپریم کورٹ سے ضمانت اور رہائی کا حکم ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیے گئے، سپریم کورٹ نے جمعرات کو دونوں کی 17،17 سال کی سزائیں معطل کرتے ہوئے 2،2 لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کی تھی، لیکن اڈیالہ جیل سے رہائی کے مرحلے میں اسلام آباد پولیس نے انہیں ایک الگ مقدمے میں دوبارہ تحویل میں لے لیا
یہ دوسرا مقدمہ کوئی نیا مقدمہ نہیں بلکہ 22 مارچ 2025 کو تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا تھا،مقدمے میں الزام ہے کہ ایمان مزاری اور حادی چٹھہ نے احتجاج کے دوران سڑکیں بند کیں، حکومت مخالف نعرے لگائے اور سرکاری اہلکاروں کے فرائض میں رکاوٹ ڈالی،ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 188، 341، 506، 353 اور 186 شامل ہیں،اہم نکتہ یہ ہے کہ مقدمہ درج کرتے وقت اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں تھی
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پولیس نے اسی مقدمے میں دونوں کو دوبارہ گرفتار کیا اور رات گئے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا،پولیس نے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی،عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر میں دونوں کو غیر قانونی اجتماع کا رکن قرار دیا گیا ہے لیکن ان کے قبضے سے کسی ہتھیار کا الزام موجود نہیں، چنانچہ 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست قابلِ قبول نہیں،دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا اور انہیں یکم اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا
اصل قانونی تنازعہ اس سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ میں سامنے آیا تھا،ایمان مزاری اور حادی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں،ان پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے،سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کو اس سزا کا نفاذ معطل کردیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں کے فیصلے تک دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا
یہاں معاملے کا سب سے اہم پہلو سامنے آتا ہے،سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں سزا معطل کرکے رہائی کا حکم دیا، جبکہ ریاستی پولیس نے اسی وقت ایک دوسرے مقدمے کو بنیاد بنا کر ان کی حراست برقرار رکھی،قانونی طور پر یہ دونوں مقدمات الگ ہیں، اس لیے ایک مقدمے میں ضمانت ملنے سے لازماً دوسرے مقدمے میں گرفتاری ختم نہیں ہوتی،لیکن اس گرفتاری کے وقت اور طریقہ کار نے اس معاملے کو غیر معمولی ضرور بنا دیا ہے
سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران بھی عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا کارروائی پر سوالات اٹھے،جسٹس نعیم اختر افغان نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ سپریم کورٹ نے مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو معاملہ ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایت کی تھی، لیکن کارروائی میں تاخیر ہوئی،بالآخر سپریم کورٹ نے خود سزائیں معطل کرکے ضمانت دے دی،دوبارہ گرفتاری براہ راست سپریم کورٹ کے حکم کو منسوخ کرنے کے لیے نہیں کی گئی بلکہ ایک الگ ایف آئی آر کے تحت کی گئی، اور اس گرفتاری کے بعد بھی معاملہ ایک عدالتی فورم، یعنی انسداد دہشت گردی عدالت، کے سامنے پیش کیا گیا،ابھی تک کوئی سرکاری بیان یا عدالتی فیصلہ ایسا سامنے نہیں آیا جس میں سپریم کورٹ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی براہ راست تصادم کی تصدیق ہو
البتہ اس پورے واقعے نے ایک اہم قانونی سوال ضرور پیدا کردیا ہے،اگر سپریم کورٹ کسی زیرِ حراست شخص کی سزا معطل کرکے اسے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے اور اسی وقت پولیس ایک دوسرے مقدمے میں اسے دوبارہ گرفتار کرلے تو کیا ایسے مقدمات کا استعمال کسی شخص کو مسلسل حراست میں رکھنے کے لیے کیا جارہا ہے، یا یہ محض الگ مقدمات کے قانونی نتائج ہیں؟ اس سوال کا حتمی جواب متعلقہ عدالتوں کی آئندہ کارروائی اور مقدمے کے ریکارڈ سے سامنے آئے گا
اس وقت دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ایمان مزاری اور حادی چٹھہ سوشل میڈیا پوسٹس والے مقدمے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ضمانت کے باوجود 2025 کے احتجاج اور سڑک بند کرنے سے متعلق الگ مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر دوبارہ جیل بھیج دیے گئے ہیں





