Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ، 17 افراد جاں بحق، 73 زخمی، پولیس لائنز میں مسلح دہشت گردوں سے کئی گھنٹے مقابلہ

کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ، 17 افراد جاں بحق، 73 زخمی، پولیس لائنز میں مسلح دہشت گردوں سے کئی گھنٹے مقابلہ

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں جمعہ 18 ستمبر کو پرانی پولیس لائنز کے احاطے میں واقع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم 22افراد جاں بحق اور 73 زخمی ہوگئے، جاں بحق افراد میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ 15 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،زخمیوں میں زیادہ تر نمازی شامل ہیں
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق دھماکا تقریباً دوپہر 1 بج کر 15 منٹ پر اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ جاری تھی،ابتدائی اطلاعات کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور مسجد کو شدید نقصان پہنچا،دھماکے سے مسجد کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا اور ملبہ گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے
خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی،پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا،پولیس کے مطابق تقریباً 7 مسلح افراد نے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جن میں سے خودکش بمبار اور ایک سنائپر سمیت 6 دہشت گرد مارے گئے
حملے کے بعد پولیس لائنز اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا،پولیس نے تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر بتایا کہ آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے،اس حساب سے دھماکے کے بعد تقریباً 2 گھنٹے 15 منٹ تک سکیورٹی آپریشن جاری رہا، تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ 2 گھنٹے 15 منٹ پورے عرصے میں دھماکا نہیں بلکہ دھماکے کے بعد فائرنگ، دہشت گردوں کی تلاش اور کلیئرنس آپریشن جاری رہا
ریسکیو ٹیموں، پولیس اور مقامی افراد نے ملبے سے زخمیوں کو نکالا اور انہیں اسپتال منتقل کیا،دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا جبکہ ہنگو۔کوہاٹ روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا
حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات میں اختلاف سامنے آیا ہے،ڈان نے رپورٹ کیا ہے کہ حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت والے اتحاد المجاہدین نے قبول کی، جبکہ اے پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی گروہ کی جانب سے فوری طور پر ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی،اس لیے ذمہ داری کے دعوے کو فی الحال محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے،ایک روز قبل قریبی ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر سڑک کنارے بم حملے میں 6 فوجی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے اسی عرصے میں 10 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی تھی
کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب ہونے والا یہ حملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دہشت گردوں نے ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا جہاں پولیس کے اہم دفاتر اور مسجد موجود ہے اور حملہ نماز جمعہ کے دوران کیا گیا، جب وہاں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی

قومی خبریں سے مزید