Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران جنگ کا ساتواں ماہ، ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں شکوک و شبہات کا سامنا

ایران جنگ کا ساتواں ماہ، ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں شکوک و شبہات کا سامنا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک پہنچیں گے تو انہیں ایسی عالمی صورتحال کا سامنا ہوگا جو گزشتہ سال کے ان کے دعووں سے نمایاں طور پر مختلف ہے،ایران کے ساتھ جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے، خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے میں خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے،رائٹرز کے مطابق عالمی رہنماؤں میں جنگ کے طویل ہونے اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے
گزشتہ سال اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان امن قائم کردیا ہے،تاہم اس کے بعد جنگ جاری رہی اور ایران کی جوہری صلاحیت کے حوالے سے سوالات برقرار رہے،رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کا ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کا بنیادی مقصد ابھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہوا
جنگ کے پھیلاؤ نے امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے بھی صورتحال پیچیدہ کردی ہے،ایران سے وابستہ حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے ہیں، جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھا ہے،رائٹرز کے مطابق ان حملوں نے توانائی اور عالمی تجارت کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے
حوثیوں کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے محتاط ردعمل نے خلیجی ممالک میں امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں،رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بعض خلیجی حکومتیں اس صورتحال میں واشنگٹن پر مکمل انحصار کے بجائے تہران کے ساتھ اپنے سفارتی رابطے بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہیں
ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے رابطے جاری ہیں، تاہم فوری اختتام کے آثار واضح نہیں،ٹرمپ نے 16 ستمبر کو کہا تھا کہ انہیں امید ہے جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، لیکن اسی وقت رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ تنازع ساتویں ماہ میں داخل ہوچکا ہے اور فوری خاتمے کا کوئی واضح راستہ سامنے نہیں آیا
اس صورتحال کے پس منظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 22 ستمبر سے شروع ہوگا، جہاں ایران جنگ کے علاوہ یوکرین جنگ، اسرائیل فلسطین تنازع، عالمی توانائی اور دیگر بحرانوں پر بھی عالمی رہنماؤں کی توجہ مرکوز ہوگی،ایران اور اسرائیل سمیت کئی اہم ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایک اہم سفارتی پیش رفت میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے اعلیٰ حکام کو بھی جنرل اسمبلی میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ میزبان ملک کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کے تحت ایرانی وفد کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دے گا، حالانکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ جاری ہے
ٹرمپ کے لیے اقوام متحدہ کا آئندہ خطاب اس لحاظ سے اہم ہوگا کہ انہیں گزشتہ سال کے ان دعووں کے مقابلے میں موجودہ صورتحال کی وضاحت کرنا ہوگی، جب انہوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرنے اور اسرائیل ایران جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا،اب جنگ کے سات ماہ بعد بھی جوہری مسئلہ، علاقائی حملے اور سفارتی مذاکرات عالمی ایجنڈے پر موجود ہیں

قومی خبریں سے مزید