Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات پر عدالتی کمیشن برہم، پہلے تفتیشی افسر سے سخت سوالات

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات پر عدالتی کمیشن برہم، پہلے تفتیشی افسر سے سخت سوالات

میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے پولیس کی ابتدائی تفتیش پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پہلے تفتیشی افسر انسپکٹر شبیر لغاری سے سخت سوالات کیے کمیشن نے قرار دیا کہ اہم شواہد جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور دستاویزات تیار کرنے میں سنگین خامیاں رہیں اور کئی بنیادی تفتیشی مراحل مناسب طریقے سے مکمل نہیں کیے گئے
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے پوچھا کہ جائے وقوعہ سے گولی یا پستول کا خول کیوں برآمد نہیں کیا گیا، جبکہ مقتول کا موبائل فون، ایپل واچ، پستول کا ہولسٹر اور دیگر اہم شواہد بھی مناسب طریقے سے تحویل میں لینے اور ان کی وصولی کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے گئے
کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ جب شبیر لغاری کیس کے تفتیشی افسر تھے تو فریروزآباد تھانے کے ایس ایچ او عدیل افضل دوسرے تھانے کی حدود میں موجود ہو کر سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں جمع کر رہے تھے تفتیشی افسر نے وضاحت دی کہ پولیس میں عملے کی کمی کے باعث تفتیشی اور آپریشنز کے اہلکار مل کر کام کرتے ہیں، تاہم کمیشن اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا
مقتول کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں کے بارے میں بھی کمیشن نے سخت سوالات کیے شبیر لغاری نے بتایا کہ انہیں 30 جولائی کو نمونے ملے تھے اور انہوں نے انہیں ذاتی تحویل میں رکھا۔ کمیشن نے پوچھا کہ قانون کے تحت تفتیشی افسر کے لیے کیس پراپرٹی کو اپنی ذاتی تحویل میں رکھنے کی کیا بنیاد تھی
کمیشن نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگر پستول برآمد ہی نہیں ہوا تو اس کے حوالے سے رسید کیسے حاصل کی گئی تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایک سکیورٹی گارڈ نے کمپنی کا خط اور پستول کی رسید دکھائی تھی
کارروائی کے دوران کمیشن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ میر رضا کے موبائل فون اور ایپل واچ سمیت اہم شواہد دوسرے پولیس اہلکاروں نے حاصل کیے جبکہ ان کی باقاعدہ وصولی اور حوالگی کے ریکارڈ میں بھی خامیاں موجود تھیں کمیشن نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ نرسری کے ملازمین اور ایک گیسٹ ہاؤس سے متعلق ممکنہ شواہد سمیت بعض اہم تفتیشی پہلوؤں کو مکمل طور پر کیوں نہیں کھنگالا گیا
شبیر لغاری نے کمیشن کو بتایا کہ انہیں 28 جولائی کو تفتیش سونپی گئی تھی اور انہوں نے میر رضا کے گھر جا کر ابتدائی کارروائی مکمل کی ان کا کہنا تھا کہ گلی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا گیا لیکن کوئی متعلقہ فوٹیج نہیں ملی تاہم کمیشن نے سوال اٹھایا کہ تفتیش کے اہم مراحل اور شواہد کی وصولی کو مناسب قانونی طریقے سے دستاویزی شکل کیوں نہیں دی گئی
کمیشن نے اس وقت بھی سخت برہمی کا اظہار کیا جب تفتیشی افسر نے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور ان کا ضمیر مطمئن ہے کمیشن نے انہیں خبردار کیا کہ ایسے جوابات نہ دیے جائیں جو کارروائی کو گمراہ کر سکتے ہوں اور سوال اٹھایا کہ اگر یہی واقعہ ان کے اپنے بچے کے ساتھ پیش آتا تو کیا وہ ایسی تفتیش سے مطمئن ہوتے
عدالتی کمیشن نے مزید کارروائی 21 ستمبر تک ملتوی کردی ہے

قومی خبریں سے مزید