پاکستان میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت آمنے سامنے، عدالتی اختیار کا بحران شدت اختیار کرگیا
سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے بعد معاملہ اب پاکستان کے اعلیٰ ترین عدالتی نظام میں ایک بڑے آئینی تنازع میں تبدیل ہوگیا ہے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے بھی عمران خان کے اسپتال منتقلی کے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرکے کیس اپنے سامنے مقرر کرلیا، جس سے دونوں عدالتوں کے دائرۂ اختیار کا سوال پیدا ہوگیا ہے
یہ تنازع 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والے نئے عدالتی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے اس ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی اور اہم آئینی معاملات اور بنیادی حقوق سے متعلق بعض مقدمات اس کے دائرۂ اختیار میں دیے گئے اس سے پہلے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو الگ الگ دائرۂ اختیار رکھنے والی ہم سطح عدالتیں قرار دیا گیا تھا، لیکن موجودہ معاملے نے دونوں کے اختیارات کی حدود پر عملی سوال اٹھا دیا ہے
سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ان کے طبی معائنے اور ضروری علاج کا انتظام کیا جاسکے، لیکن حکومت کی جانب سے اس حکم پر عمل نہ ہونے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا بعد میں اڈیالہ جیل کے 3 دیگر قیدیوں نے بھی اسی نوعیت کے علاج کی درخواست کی، جس کے نتیجے میں معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے پہنچا
وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق مقدمے کا مکمل ریکارڈ سپریم کورٹ سے طلب کیا اور اس معاملے کو اپنے سامنے مقرر کرلیا اس اقدام سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوگیا کہ اگر کسی مقدمے میں آئینی معاملہ سامنے آئے تو کیا وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے بارے میں حکم دے سکتی ہے
سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر فوری فیصلہ دینے کے بجائے معاملے کی آئینی اور قانونی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی اور اٹارنی جنرل سے رائے طلب کی کہ آیا وفاقی آئینی عدالت کا حکم سپریم کورٹ پر لازم ہے یا نہیں
یہ تنازع اس لیے بھی اہم ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے متن میں ایسے حالات کے بارے میں واضح صورت حال نظر نہیں آتی جب سپریم کورٹ میں پہلے سے زیر سماعت مقدمے کے دوران کوئی آئینی سوال پیدا ہو اور وہ معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار میں بھی آتا ہو اس صورت میں دونوں عدالتوں کے اختیارات کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہونے کا امکان موجود ہے
معاملے کا آغاز ایک زیر حراست شخص کو طبی علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے نسبتاً سادہ حکم سے ہوا تھا، لیکن اب یہ تنازع پاکستان کے عدالتی نظام میں 2 اعلیٰ عدالتوں کے دائرۂ اختیار اور 27ویں آئینی ترمیم کے تحت تشکیل پانے والے نئے عدالتی ڈھانچے کے لیے ایک اہم آئینی امتحان بن چکا ہے





