Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آئی سی ای حکام کو سخت ای میل پر شہری کے خلاف کارروائی روک دی گئی، عدالت نے آزادی اظہار کے حق کا تحفظ کیا

آئی سی ای حکام کو سخت ای میل پر شہری کے خلاف کارروائی روک دی گئی، عدالت نے آزادی اظہار کے حق کا تحفظ کیا

نیویارک کے شہر روچیسٹر کے شہری ڈیوڈ اسٹریور کے خلاف امریکی وفاقی حکام کی مزید کارروائی ایک عدالت نے روک دی ہے،اسٹریور نے رواں سال جنوری میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اس وقت کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لیونز کو ایک سخت ای میل بھیجی تھی، جس کے بعد امیگریشن حکام نے کئی ماہ بعد اسے تلاش کرنے کی کوشش کی اور اس کے خلاف ممکنہ قانونی خلاف ورزی کا انتباہ جاری کیا تھا
وفاقی جج کونٹریراس کے منگل کے عدالتی حکم کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور آئی سی ای کو اس وارننگ نوٹس کی بنیاد پر اسٹریور کے خلاف مزید اقدامات کرنے یا اس کے محفوظ اظہارِ رائے کے حوالے سے اسی نوعیت کی دھمکی دینے سے روک دیا گیا ہے،جج نے ابتدائی حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں وفاقی حکومت کے اقدامات نے اسٹریور کے پہلی آئینی ترمیم کے تحت حاصل آزادی اظہار کے حقوق کو متاثر کیا ہے
اسٹریور نے جنوری میں بھیجی گئی ای میل میں لیونز کو نازی دور کے ایک اہلکار سے تشبیہ دی، انہیں انتہائی سخت الفاظ میں مخاطب کیا اور لکھا کہ انہیں اپنی زندگی کے آخری دن تک اپنے ضمیر کی اذیت کا سامنا رہے گا،اسٹریور کے مطابق اس نے یہ پیغام اس واقعے کے بعد بھیجا جب جنوری میں منیاپولس میں وفاقی امیگریشن کارروائی کے دوران 2 امریکی شہری مبصرین کو وفاقی اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا
تقریباً 5 ماہ بعد 23 جون کو آئی سی ای کے 2 خصوصی ایجنٹ روچیسٹر میں اسٹریور کے گھر پہنچے، تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھا،ایجنٹوں نے اس کی اہلیہ کو ایک وارننگ نوٹس دیا جس پر درج تھا کہ وہ ممکنہ طور پر وفاقی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے،نوٹس میں وفاقی حکام کو دھمکیاں دینے سے متعلق قوانین کا حوالہ بھی دیا گیا تھا
اس کے بعد حکام نے اسٹریور کو جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روکنے کی کوشش کی جب وہ بیرون ملک سفر سے واپس پہنچا، اور اس کے بعد نیویارک کے ایک ہوٹل تک بھی اس کا سراغ لگایا،تاہم حکام اس سے براہ راست رابطہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے،آئی سی ای کے مطابق اس کی تحقیقات 30 جون کو یہ کہتے ہوئے بند کر دی گئیں کہ تمام ممکنہ تحقیقاتی راستے استعمال کیے جا چکے ہیں
اسٹریور نے جولائی میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومتی اہلکاروں کی کارروائی نے اسے اپنے سیاسی خیالات کے اظہار سے خوفزدہ کیا اور پہلی آئینی ترمیم کے تحت اس کے حقوق کی خلاف ورزی کی،اس کی نمائندگی آزادی اظہار کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فاؤنڈیشن فار انفرادی رائٹس اینڈ ایکسپریشن کر رہی ہے
وفاقی حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ممکنہ خطرات کی تحقیقات کر سکتے ہیں اور حالیہ عرصے میں سرکاری اہلکاروں کو تشدد کی دھمکیوں میں اضافے کے باعث ایسی تحقیقات ضروری ہیں،تاہم حکومتی موقف میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اسٹریور کی جنوری والی ای میل ایسا قابلِ تعزیر پرتشدد خطرہ تھی جس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے
عدالتی حکم کے بعد مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ قانونی کارروائی جاری رہے گی،جج نے حکومت سے اس تحقیقات کی اختتامی رپورٹ بھی طلب کی ہے جو جون کے آخر میں بند کی گئی تھی

قومی خبریں سے مزید