Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کے لیے وفاقی ججوں کی تقرری کی دوڑ، وسط مدتی انتخابات سے پہلے سینیٹ میں وقت کم پڑنے لگا

ٹرمپ کے لیے وفاقی ججوں کی تقرری کی دوڑ، وسط مدتی انتخابات سے پہلے سینیٹ میں وقت کم پڑنے لگا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ رواں سال کے اختتام سے پہلے زیادہ سے زیادہ وفاقی ججوں کی تقرری اور سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے، کیونکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد سینیٹ کا سیاسی کنٹرول تبدیل ہونے کی صورت میں نئی عدالتی تقرریوں کے لیے حالات مختلف ہوسکتے ہیں،ریپبلکن پارٹی اس وقت سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی اکثریت رکھتی ہے
ٹرمپ نے اگست میں صرف 9 دن کے دوران 13 نئے وفاقی ججوں کو نامزد کیا تھا، جب سینیٹ تعطیلات پر تھی،ان میں سے 6 امیدوار بدھ کو سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، جبکہ مزید 5 نامزدگیاں مکمل سینیٹ میں منظوری کی منتظر ہیں،وفاقی ججوں کی حتمی منظوری سینیٹ کی سادہ اکثریت سے ہوتی ہے
ٹرمپ اپنی دوسری مدت شروع ہونے کے بعد اب تک 54 وفاقی ججوں کی منظوری حاصل کرچکے ہیں، جبکہ پہلی صدارتی مدت کے دوران ان کے نامزد کردہ 234 ججوں کی سینیٹ سے توثیق ہوئی تھی،تقابلی طور پر جو بائیڈن کی صدارت کے اختتام تک 235 وفاقی ججوں کی منظوری ہوئی تھی
اس وقت وائٹ ہاؤس کی توجہ صرف خالی آسامیوں کو پُر کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان نشستوں پر بھی ہے جہاں موجودہ جج ریٹائر ہونے والے ہیں،رائٹرز کے مطابق عدالتی اسامیاں اور ممکنہ ریٹائرمنٹ کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے، جس کے باعث موجودہ دور میں نامزدگیوں کے لیے دستیاب مواقع بھی محدود ہوتے جارہے ہیں
ٹرمپ کی نامزدگیوں کا اثر وفاقی اپیل عدالتوں کی تشکیل پر بھی پڑ رہا ہے،اگست میں آرکنساس کے وفاقی ضلعی جج لی روڈوفسکی کو آٹھویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے لیے نامزد کیا گیا،ان کی ممکنہ منظوری کے بعد اس عدالت میں ٹرمپ کے مقرر کردہ ججوں کو اکثریت حاصل ہوسکتی ہے، جو 12 علاقائی وفاقی اپیل عدالتوں میں ایسی پہلی صورت ہوگی
وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے ہیں،اگر اس کے نتیجے میں سینیٹ کا کنٹرول تبدیل ہوتا ہے تو نئی سینیٹ کے ارکان اگلے سال حلف اٹھائیں گے، جس کے بعد ٹرمپ کی عدالتی نامزدگیوں کو موجودہ سینیٹ کے مقابلے میں مختلف سیاسی حالات کا سامنا ہوسکتا ہے،تاہم انتخابی نتیجہ کیا ہوگا، اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی
وفاقی عدلیہ میں صدارتی نامزدگیوں کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں کیونکہ وفاقی جج عام طور پر تاحیات تقرری حاصل کرتے ہیں،اسی وجہ سے رواں سال کے باقی مہینوں میں سینیٹ کے سامنے آنے والی نامزدگیاں ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت کے عدالتی ریکارڈ کا ایک اہم حصہ بن سکتی ہیں،رائٹرز کے مطابق سابقہ صدور کو بھی وسط مدتی انتخابات سے پہلے عدالتی نامزدگیوں کی منظوری تیز کرنے کی سیاسی ضرورت کا سامنا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید