جیل کی دیواروں کے پیچھے سے امریکہ بھر میں فراڈ، قیدی جعلی فون کالز سے خاندانوں کو لوٹنے لگے
امریکہ میں فراڈ کا ایک ایسا نیٹ ورک سامنے آیا ہے جس کی کالیں جیل کی دیواروں کے اندر سے کی جا رہی ہیں،وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیق کے مطابق قیدی اسمگل کیے گئے موبائل فون استعمال کرکے ایسے خاندانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کے عزیز جیل میں قید ہیں، خود کو ضمانتی بانڈ ایجنٹ، عدالت کا اہلکار یا کسی سرکاری پروگرام کا نمائندہ ظاہر کرکے فوری رقم طلب کرتے ہیں
جنوبی کیرولائنا کے 68 سالہ ریٹائرڈ انجینئر آرٹ مونک بھی ایسے ہی فراڈ کا شکار ہوئے،انہیں ایک شخص نے فون کرکے بتایا کہ ان کا قید میں موجود بیٹا فوری مدد کا محتاج ہے،فون کرنے والے نے خود کو ایک حقیقی بیل بانڈ کمپنی کا ملازم ظاہر کیا اور ضمانت، بحالی کے علاج اور نفسیاتی ادویات کے نام پر رقم مانگی،مونک نے مختلف ادائیگیوں کے ذریعے تقریباً 12 ہزار ڈالر دے دیے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کال کرنے والا دراصل جارجیا کی واشنگٹن اسٹیٹ جیل میں قید ایک شخص تھا
تحقیقات کے مطابق فراڈ کرنے والے قیدیوں کے پاس اپنے ممکنہ متاثرین کے بارے میں حیران کن حد تک معلومات ہوتی ہیں،وہ جیل میں موجود کسی شخص کے رشتہ داروں کے نام، جیل میں قید ہونے کی حقیقت اور بعض اوقات خاندانی حالات سے متعلق معلومات استعمال کرکے ایسی کہانی تیار کرتے ہیں جو حقیقی محسوس ہوتی ہے،اس کے بعد وہ دباؤ پیدا کرتے ہیں کہ رقم فوراً بھیجی جائے، ورنہ ضمانت، علاج یا قانونی کارروائی متاثر ہوسکتی ہے
یہ فراڈ صرف ایک ریاست تک محدود نہیں،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جارجیا میں ایسے واقعات خاص طور پر نمایاں ہوئے ہیں اور بعض تحقیقات میں قیدیوں کے درمیان جعلی کالوں کے طریقے اور اسکرپٹ ایک دوسرے تک منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے،ایک دوسرے واقعے میں جنوبی کیرولائنا کی ایک ریٹائرڈ نرس سے اس وقت 1,368 ڈالر وصول کیے گئے جب اس کے پوتے کے جیل پہنچنے کے بعد ایک شخص نے خود کو عدالتی پروگرام کا اہلکار ظاہر کیا،تفتیش کاروں نے کال کا سراغ جارجیا کی جیل تک پہنچایا
قیدیوں تک غیر قانونی موبائل فون پہنچنے کے ذرائع میں ڈرون، ملاقات کے لیے آنے والے افراد اور مبینہ طور پر بدعنوان جیل ملازمین شامل ہیں،ایک بار فون ہاتھ لگنے کے بعد قیدی جیل کے اندر بیٹھ کر عام موبائل فون کی طرح کال، ٹیکسٹ پیغامات اور رقم کے مطالبات کر سکتے ہیں
اس فراڈ کے وسیع دائرے کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ مونک کے معاملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ایسے گروہ کے خلاف کارروائی کی جس پر 100 سے زیادہ متاثرین سے 100 ہزار ڈالر سے زائد رقم ہتھیانے کا الزام ہے،مونک نے بعد میں تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی کی
یہ معاملہ امریکی جیلوں میں غیر قانونی موبائل فون کے استعمال کے ایک بڑے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے،جارجیا کے اٹارنی جنرل اور دیگر حکام جیلوں کے قریب موبائل سگنلز روکنے اور ڈرون پروازوں کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی سطح پر بھی جیلوں میں غیر قانونی فون کے استعمال کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی اور ضابطوں پر غور جاری ہے
اس فراڈ میں سب سے مؤثر ہتھیار کوئی جدید سائبر ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتماد، خاندانی جذبات اور فوری مالی دباؤ ہے؟قیدی فون کے دوسری طرف بیٹھ کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن میں متاثرہ خاندان یہ سوچنے کے بجائے کہ کال واقعی کہاں سے آئی ہے، اپنے عزیز کو بچانے کے لیے فوراً رقم بھیجنے لگتا ہے





