ٹرمپ کے حمایت یافتہ کرپٹو قانون کو سینیٹ میں بڑا دھچکا، 60 ووٹ درکار تھے مگر صرف 50 مل سکے
واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے کرپٹو کرنسی کی صنعت کے لیے پہلی جامع وفاقی قانونی حدود قائم کرنے والے کلیئرٹی ایکٹ کو آگے بڑھانے سے انکار کردیا، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کرپٹو صنعت کی حمایت یافتہ اس قانون سازی کو بڑا دھچکا لگا ہے، منگل کو ہونے والی طریقہ کار کی ووٹنگ میں بل کو آگے بڑھانے کے لیے درکار 60 ووٹ حاصل نہ ہوسکے اور نتیجہ 50 کے مقابلے میں 49 ووٹ رہا،چار ریپبلکن سینیٹرز نے بھی بل کے خلاف ووٹ دیا
کلیئرٹی ایکٹ کا مقصد پہلی مرتبہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ملک گیر وفاقی ضابطہ قائم کرنا اور یہ واضح کرنا تھا کہ مختلف کرپٹو ٹوکنز اور سرگرمیوں کی نگرانی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کرے گا یا کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن، کرپٹو کمپنیوں کا مؤقف رہا ہے کہ موجودہ غیر واضح نظام نے صنعت کو قانونی غیر یقینی صورتحال میں رکھا ہوا ہے
سینیٹ میں ووٹنگ سے ایک روز قبل ریپبلکنز نے بل کا نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا تھا، جس میں ڈیموکریٹس کے مطالبات کے مطابق 126 اہم تبدیلیاں شامل کی گئی تھیں،ان میں سرکاری عہدیداروں کے کرپٹو کاروبار سے مالی فائدہ اٹھانے پر مزید پابندیوں سمیت منی لانڈرنگ، مستحکم کرپٹو کرنسیوں اور ریاستی اٹارنی جنرلز کے نفاذ سے متعلق بعض شقیں شامل تھیں،اس کے باوجود فریقین مطلوبہ اتفاق رائے پیدا نہ کرسکے
بل کی مخالفت صرف جماعتی بنیادوں پر نہیں ہوئی،بعض ڈیموکریٹ سینیٹرز نے خاص طور پر سرکاری عہدیداروں کے کرپٹو اثاثوں سے ممکنہ مالی مفادات پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا، جبکہ بینکنگ شعبے نے بھی خدشات ظاہر کیے کہ بعض مجوزہ ضوابط مستحکم کرپٹو کرنسیوں کو روایتی بینک ڈپازٹس کا مقابل بن سکتے ہیں اور بینکوں کے قرض دینے کے نظام پر اثر ڈال سکتے ہیں
صدر ٹرمپ نے اس قانون سازی کی حمایت کی تھی اور اپنی انتظامیہ کے دور میں کرپٹو صنعت کے لیے واضح وفاقی قواعد بنانے پر زور دیا تھا،کرپٹو صنعت اور اس کے حامی گروپوں نے بھی بل کی منظوری کے لیے بڑے پیمانے پر لابنگ کی؛ رائٹرز کے مطابق اس قانون سازی کی حمایت میں سیاسی سرگرمیوں پر 190 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے
سینیٹ کی ناکامی کے فوری اثرات مالیاتی منڈی میں بھی نظر آئے،رائٹرز کے مطابق ووٹنگ کے بعد بٹ کوائن تقریباً 4 فیصد گر کر 75,908 ڈالر کے قریب آگیا، جبکہ کوائن بیس اور سرکل سمیت بڑی کرپٹو کمپنیوں کے حصص تقریباً 9 فیصد تک نیچے آئے
تاہم سینیٹ کی یہ ووٹنگ قانون سازی کا آخری فیصلہ نہیں ہے،ریپبلکن سینیٹر تھام ٹِلِس نے طریقہ کار کی ووٹنگ میں اپنا ووٹ تبدیل کرکے ’’نہیں‘‘ کیا، جس سے بل کو مستقبل میں دوبارہ زیرِ غور لانے کا راستہ برقرار رہا،فی الحال کلیئرٹی ایکٹ سینیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکا اور امریکہ میں کرپٹو مارکیٹ کے جامع وفاقی ضابطے کا معاملہ مزید مذاکرات سے مشروط ہوگیا ہے





