کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ میں البرٹا کا مستقبل بھی زیرِ بحث، سرمایہ کاری کی دوڑ نے علیحدگی کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کر دیا

کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ میں البرٹا کا مستقبل بھی زیرِ بحث، سرمایہ کاری کی دوڑ نے علیحدگی کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کر دیا

ٹورنٹو میں جاری کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ صرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے البرٹا کے مستقبل اور وفاقی حکومت کے ساتھ صوبے کے تعلقات سے متعلق سوالات بھی دوبارہ نمایاں کر دیے ہیں وزیراعظم مارک کارنی حکومت اس سربراہ اجلاس کے ذریعے دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں کو کینیڈا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ بھی صوبے کے توانائی، معدنیات، ٹیکنالوجی اور دیگر بڑے منصوبے عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کر رہی ہیں
البرٹا نے سربراہ اجلاس کے لیے 34 بڑے منصوبوں کی فہرست تیار کی ہے صوبائی حکومت کے مطابق ان منصوبوں میں توانائی، اہم معدنیات، کاربن محفوظ کرنے کے منصوبے، زراعت، جنگلات، لائف سائنسز، ایرو اسپیس، دفاع، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہیں ڈینیئل اسمتھ اور ان کی کابینہ کے ارکان ایسے عالمی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جن کے زیرِ انتظام مجموعی طور پر 50 کھرب ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ ہے
یہ صورتحال البرٹا کے لیے ایک اہم سیاسی موڑ بھی بن سکتی ہے صوبے میں ایک عرصے سے یہ بحث موجود ہے کہ اگر وفاقی حکومت اور البرٹا کے درمیان توانائی، پائپ لائنوں، وسائل اور معاشی پالیسی پر اختلافات بڑھتے رہے تو صوبائی خودمختاری اور علیحدگی کی تحریک مزید زور پکڑ سکتی ہے تاہم موجودہ سرمایہ کاری سربراہ اجلاس یہ بھی دکھا رہا ہے کہ البرٹا کی معیشت اور قدرتی وسائل کی اہمیت ایسی ہے جسے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت دونوں عالمی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں
وزیراعظم کارنی کا مقصد اگلے 5 سال کے دوران تقریباً 1 کھرب کینیڈین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے دنیا کے بڑے سرمایہ کاری اداروں کے نمائندے ٹورنٹو پہنچے ہیں اور حکومت انہیں توانائی، کان کنی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، بنیادی ڈھانچے اور جدید صنعتوں کے منصوبے دکھا رہی ہے عالمی سرمایہ کاروں کے زیرِ انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت 120 کھرب کینیڈین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے
البرٹا اس موقع کو اپنے لیے خاص طور پر اہم سمجھ رہا ہے کیونکہ صوبہ کینیڈا کی توانائی کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ یہاں توانائی، زمین، قدرتی وسائل اور کاروباری مواقع بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ ڈینیئل اسمتھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافے سے روزگار پیدا ہوگا اور صوبے کی معاشی طاقت مزید بڑھے گی
دوسری طرف تجزیہ کاروں کے مطابق البرٹا کا مستقبل صرف سرمایہ کاری سے طے نہیں ہوگا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعلقات، توانائی کی برآمدات، بڑے منصوبوں کی منظوری، ماحولیاتی قوانین، مقامی آبادیوں کے حقوق اور آئینی اختیارات جیسے معاملات بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ٹورنٹو میں ہونے والی یہ سرمایہ کاری کانفرنس البرٹا کے لیے معاشی موقع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی امتحان بھی بن گئی ہے
کینیڈا اس وقت امریکا پر اپنے معاشی انحصار کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر عالمی منڈیوں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے ایسے میں البرٹا کے وسیع توانائی اور معدنی وسائل وفاقی حکومت کی نئی معاشی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اگر اوٹاوا اور البرٹا ان وسائل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ راستہ نکال لیتے ہیں تو اس سے کینیڈا کی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر سیاسی اختلافات دوبارہ شدت اختیار کرتے ہیں تو یہی وسائل وفاق اور صوبے کے درمیان مزید کشیدگی کا سبب بھی بن سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید