10 کروڑ روپے سے زائد بینکنگ لین دین کی نگرانی، اسٹیٹ بینک کو مرکزی ڈیٹا تک رسائی مل گئی
پاکستان میں ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بینکنگ ڈیٹا کی نگرانی کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک محفوظ مرکزی ڈیٹا ہب قائم، چلانے اور برقرار رکھنے کا مجاز ہوگا اس نظام میں بینکوں اور الیکٹرانک منی اداروں کے صارفین کے اکاؤنٹس، ریکارڈ اور مالی لین دین کی معلومات محفوظ کی جائیں گی
انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترمیم کے بعد نئے نظام کے تحت تمام بینکنگ کمپنیاں اور الیکٹرانک منی ادارے ایسے اکاؤنٹ ہولڈرز کی مقررہ معلومات مرکزی ڈیٹا ہب پر الیکٹرانک طریقے سے اپ لوڈ کریں گے جن کے اکاؤنٹس میں کسی رپورٹنگ مدت کے دوران 10 کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع یا نکلوائی گئی ہو
اس ڈیٹا کو الگورتھم کے ذریعے بینکنگ اور ٹیکس معلومات کے ساتھ ملایا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ بڑے مالی لین دین اور متعلقہ افراد کی ٹیکس معلومات میں کوئی نمایاں تضاد تو موجود نہیں اگر کوئی بڑا فرق سامنے آیا تو معاملہ مزید کارروائی کے لیے ٹیکس حکام کے کمپلائنس رسک مینجمنٹ نظام میں بھیجا جائے گا
نئے نظام میں رازداری کے لیے حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں ابتدائی مرحلے میں حاصل ہونے والی معلومات براہ راست کسی انکم ٹیکس افسر کو دکھائی نہیں دیں گی بلکہ ڈیجیٹل نظام خودکار طریقے سے ڈیٹا کا موازنہ کرے گا صرف اس صورت میں معاملہ مزید جانچ کے لیے بھیجا جائے گا جب مجموعی معلومات میں نمایاں عدم مطابقت سامنے آئے
حکومت کا مقصد بڑے مالی لین دین اور ٹیکس ریکارڈ کے درمیان موجود فرق کی نشاندہی کرنا اور ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے اس اقدام سے ایسے افراد اور کاروباری ادارے زیادہ توجہ میں آسکتے ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں بڑے پیمانے پر رقوم کی آمد و رفت ہوتی ہے لیکن ان کے ظاہر کردہ ٹیکس معاملات ان مالی سرگرمیوں سے مطابقت نہیں رکھتے
نئے نظام کے تحت رپورٹنگ مدت، اکاؤنٹس، زیادہ سے زیادہ کریڈٹ، مرکزی ڈیٹا ہب اور کمپلائنس رسک مینجمنٹ سمیت مختلف اصطلاحات کی بھی وضاحت کی گئی ہے، جبکہ بینکنگ معلومات کی رازداری برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی شقیں شامل کی گئی ہیں





