ہمالیائی آفات کا بڑھتا خطرہ، پاکستان کو مون سون سے آگے کی تیاری کرنا ہوگی
نیپال میں حالیہ تباہ کن پہاڑی آفت نے پاکستان کے لیے بھی ایک اہم خطرے کی نشاندہی کردی ہے ماہرین کے مطابق بلند پہاڑی علاقوں میں اب ایسے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کا تعلق لازماً بارش یا مون سون سے نہیں ہوتا
16 اگست کو نیپال میں پیش آنے والے واقعے میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر چٹان اور گلیشیئر کی برف کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے آیا۔ اس شدید عمل سے ایسا ملبہ بنا جس میں برف، کیچڑ اور بڑے پتھر شامل تھے اور یہ انتہائی تیزی سے نیچے کی طرف بڑھا۔ ملبے نے دریا کا راستہ روک دیا اور اس کے بعد اچانک پانی اور ملبے کا ایک اور بڑا ریلا آبادیوں اور بجلی کے منصوبوں کی جانب بڑھ گیا
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس واقعے میں پیدا ہونے والی زمینی لرزش کو ابتدا میں زلزلہ سمجھا گیا، تاہم بعد کے تجزیوں میں اسے گلیشیئر اور چٹان کے اچانک گرنے سے پیدا ہونے والا شدید جھٹکا قرار دیا گیا اس ملبے اور سیلابی ریلے نے تقریباً 100 کلومیٹر تک کا علاقہ متاثر کیا
ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت بلند پہاڑی علاقوں میں مستقل منجمد رہنے والی زمین یعنی پرما فراسٹ کو پگھلا رہا ہے جبکہ گلیشیئرز کے سکڑنے سے پہاڑی ڈھلوانوں کو قدرتی سہارا بھی کم ہو رہا ہے نتیجتاً وہ چٹانیں اور برفانی ڈھلوانیں بھی اچانک گر سکتی ہیں جو ماضی میں انتہائی سرد ہونے کی وجہ سے نسبتاً محفوظ سمجھی جاتی تھیں
پاکستان کے لیے یہ خطرہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں پہلے ہی ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ 2010 میں عطاآباد کے مقام پر بڑے پیمانے پر پہاڑی تودہ گرنے سے دریائے ہنزہ کا راستہ بند ہوا اور قراقرم ہائی وے کا ایک بڑا حصہ زیر آب آگیا۔ 2022 میں شِسپر گلیشیئر سے بننے والی برفانی جھیل کے اچانک پھٹنے سے حسن آباد کے قریب پل اور شاہراہ کو شدید نقصان پہنچا
خطرہ صرف پاکستان کی سرحدوں تک محدود نہیں چین کے تبتی سطح مرتفع سے دریائے سندھ، ستلج اور برہم پتر سمیت جنوبی ایشیا کے کئی بڑے دریاؤں کا آغاز ہوتا ہے اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف دو طرفہ معاہدے کافی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے تمام متعلقہ ممالک کے درمیان مشترکہ اور حقیقی وقت پر مبنی ابتدائی وارننگ کا نظام قائم ہونا چاہیے
پاکستان میں داسو، دیامر بھاشا اور مہمند جیسے بڑے ڈیم اور اہم شاہراہیں ایسے دریائی راستوں میں واقع ہیں جہاں منصوبہ بندی عموماً مون سون کے سیلاب کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے لیکن اچانک آنے والا برف، چٹان اور کیچڑ کا انتہائی تیز ریلا روایتی سیلاب سے بالکل مختلف خطرہ ہے، جس میں خبردار کرنے اور ردعمل کے لیے وقت انتہائی کم ہوسکتا ہے
ماہرین نے پاکستان کے لیے چین کے ساتھ حقیقی وقت میں پہاڑی ڈھلوانوں کی نگرانی، سیٹلائٹ اور ریڈار ٹیکنالوجی کے ذریعے گلیشیئرز اور ممکنہ رکاوٹی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، دریاؤں میں زلزلہ پیما اور ہائیڈرولوجیکل سینسرز کی تنصیب اور جنوبی ایشیا کی سطح پر مشترکہ خطرہ نقشہ سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کو صرف مون سون کے سیلاب سے نمٹنے کی منصوبہ بندی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ بلند پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر، برف، چٹان اور ملبے سے پیدا ہونے والی اچانک آفات کے لیے بھی جدید نگرانی اور فوری وارننگ کا مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا





