Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تاریخی فتح کے بعد اے ایف ڈی کے لیے حکومت کا راستہ کھلا؟ 5 نشستوں والی بی ایس ڈبلیو بن سکتی ہے فیصلہ کن جماعت؟

تاریخی فتح کے بعد اے ایف ڈی کے لیے حکومت کا راستہ کھلا؟ 5 نشستوں والی بی ایس ڈبلیو بن سکتی ہے فیصلہ کن جماعت؟

جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی، اے ایف ڈی، کی تاریخی کامیابی کے بعد اب تمام نظریں صرف اس سوال پر ہیں کہ کیا 39 نشستیں حاصل کرنے والی اے ایف ڈی، 5 نشستوں والی بی ایس ڈبلیو کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی ہے؟
اے ایف ڈی نے ریاستی پارلیمان کی 83 میں سے 39 نشستیں حاصل کی ہیں اور اکثریت کے لیے اسے صرف 3 مزید نشستیں درکار ہیں،بی ایس ڈبلیو نے 5 نشستیں حاصل کرکے پارلیمان میں داخلہ لیا ہے اور اب حکومت سازی میں اس کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے
دونوں جماعتوں میں بنیادی نظریاتی اختلافات موجود ہیں، لیکن روس اور یوکرین کے معاملے، بڑے پیمانے کی امیگریشن کی مخالفت اور بعض خارجہ و داخلی پالیسیوں پر ان کے مؤقف میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے،بی ایس ڈبلیو کے مقامی رہنما تھامس شولزے نے انتخاب کے بعد کہا کہ ان کی جماعت تمام سیاسی قوتوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں اے ایف ڈی بھی شامل ہے
یہی وہ نکتہ ہے جس نے جرمنی کی روایتی سیاسی فائر وال کو شدید امتحان میں ڈال دیا ہے،مرکزی جماعتیں طویل عرصے سے اے ایف ڈی کے ساتھ حکومت بنانے یا سیاسی تعاون سے انکار کرتی رہی ہیں، لیکن اس بار اے ایف ڈی اتنی بڑی پارلیمانی قوت بن کر ابھری ہے کہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا
تجزیہ کاروں کے مطابق اے ایف ڈی اور بی ایس ڈبلیو کے درمیان براہ راست اتحاد ابھی طے شدہ معاملہ نہیں ہے،ایک امکان یہ بھی ہے کہ بی ایس ڈبلیو اے ایف ڈی کی اقلیتی حکومت کو باہر سے حمایت دے،جرمن تجزیوں میں حکومت سازی کو مشکل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بی ایس ڈبلیو نے اگرچہ تعاون کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، لیکن فوری طور پر اے ایف ڈی کی حکومت کی حمایت کا وعدہ بھی نہیں کیا
چانسلر فریڈرک میرز نے اے ایف ڈی کی فتح کے باوجود کہا ہے کہ یہ جماعت جرمنی میں قومی اکثریت حاصل نہیں کرے گی اور انہوں نے اس کے یوکرین اور امیگریشن سے متعلق مؤقف پر تنقید کی ہے،تاہم سیکسنی انہالٹ کا نتیجہ اس بحث کو نئی سطح پر لے گیا ہے کہ اگر اے ایف ڈی مسلسل بڑی انتخابی قوت بنتی رہی تو موجودہ فائر وال اسے اقتدار سے باہر رکھنے میں کب تک کامیاب رہے گی
فی الحال سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ اے ایف ڈی کے پاس 39 نشستیں اور بی ایس ڈبلیو کے پاس 5 نشستیں ہیں، لیکن دونوں کے درمیان حکومت سازی کا کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا،لہٰذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اے ایف ڈی حکومت بنا چکی ہے، مگر بی ایس ڈبلیو نے حکومت سازی کے امکانات کو ایک ایسا راستہ ضرور فراہم کیا ہے جو جرمنی کی روایتی فائر وال کے لیے سب سے بڑا امتحان بن گیا ہے

قومی خبریں سے مزید