اسرائیل کا برطانیہ کو مشرقی یروشلم کا قونصل خانہ 30 دن میں بند کرنے کا حکم
اسرائیل نے برطانیہ کو مشرقی یروشلم میں قائم اپنے قونصل خانے کو 30 دن کے اندر بند کرنے کا حکم دے دیا ہے اسرائیلی حکام کے مطابق قونصل خانے میں تعینات برطانوی سفارت کار بھی 30 دن بعد اپنی سفارتی حیثیت سے محروم ہوجائیں گے یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کے ردعمل میں کیا گیا ہے
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور بستیوں کی توسیع سے منسلک کمپنیوں اور افراد کے خلاف اقدامات کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا فرانس اور کینیڈا نے بھی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کا اعلان کیا ہے
مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ طویل عرصے سے فلسطینی امور سے متعلق برطانیہ کی سفارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے یہ مشن یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ سے متعلق امور دیکھتا ہے اور فلسطینی اتھارٹی سے بھی اس کا سفارتی رابطہ ہے
اسرائیل نے غزہ سے متعلق امریکی قیادت میں قائم رابطہ کاری کے ایک مشن میں کام کرنے والے برطانوی نمائندوں اور رام اللہ میں تعینات بعض برطانوی سفارت کاروں کو بھی 7 دن کے اندر اسرائیل چھوڑنے کا حکم دیا ہے اس کے علاوہ برطانیہ کو مغربی کنارے میں فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت کی اجازت بھی ختم کردی گئی ہے
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیل کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام پر حیرت نہیں ہوئی۔ برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد اور بستیوں کی مسلسل توسیع پر خاموش نہیں رہا جاسکتا
اسرائیل نے 12 برطانوی شہریوں اور ارکان پارلیمنٹ پر بھی ملک میں داخلے کی پابندی عائد کردی ہے، جن میں سابق برطانوی لیبر پارٹی رہنما جیریمی کوربن بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام نے برطانوی اقدامات کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کے خلاف تازہ اقدامات کے بعد اسرائیل اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی بندش کا حکم اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نمایاں اظہار ہے





