مصنوعی ذہانت کی جنگ اب صرف امریکہ اور چین کی نہیں رہی: واشنگٹن نے چین پر امریکی ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام لگا دیا، یورپ اپنی آخری بڑی امید کو اربوں ڈالر دے رہا ہے اور بھارت روزگار کے سب سے بڑے امتحان میں داخل ہو گیا
مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ اس ہفتے ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے،اب مقابلہ صرف یہ ثابت کرنے کا نہیں رہا کہ کس ملک یا کمپنی کا ماڈل زیادہ ذہین ہے،اصل جنگ یہ بنتی جا رہی ہے کہ دنیا کی اگلی صنعتی، فوجی، معاشی اور علمی طاقت کا مرکز کون بنے گا
امریکی حکومت نے تازہ ترین طور پر چین کی 6 بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں، جن میں ڈیپ سیک، مون شاٹ اے آئی اور علی بابا شامل ہیں، پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکی کمپنیوں کے جدید ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایک تکنیک استعمال کی جسے ’’ڈسٹلیشن‘‘ کہا جاتا ہے،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کے ذریعے چینی کمپنیوں نے امریکی ماڈلز کے نتائج سے اپنے نسبتاً سستے ماڈلز کو تربیت دی اور یوں مہنگی تحقیق اور ترقی کے برسوں کو مختصر کرنے کی کوشش کی
یہ محض تجارتی تنازع نہیں،واشنگٹن کا الزام ہے کہ حاصل کی جانے والی ٹیکنالوجی چین کی فوجی اور سائبر صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں استعمال ہو سکتی ہے،چینی حکومت نے ابھی اس تازہ امریکی الزام پر باضابطہ جواب نہیں دیا، لیکن یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین رواں ماہ مصنوعی ذہانت کے تحفظ اور خطرات پر براہ راست مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت کی کہانی اچانک ٹیکنالوجی سے نکل کر عالمی طاقت کی سیاست میں داخل ہو جاتی ہے
امریکہ اور چین ستمبر میں مصنوعی ذہانت کے تحفظ پر اپنی پہلی باقاعدہ دوطرفہ بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں،مجوزہ مذاکرات میں مصنوعی ذہانت سے ہونے والے سائبر حملوں، جدید ماڈلز کی نگرانی اور ان کے خطرات پر توجہ دی جائے گی،یہ مذاکرات 24 ستمبر کو متوقع ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات سے پہلے ہو رہے ہیں
لیکن اس پوری دوڑ میں سب سے حیران کن تبدیلی یہ ہے کہ چین اب صرف امریکہ کا پیچھا نہیں کر رہا بلکہ کم لاگت والے ایسے ماڈلز تیار کر رہا ہے جو امریکی کمپنیوں کے لیے حقیقی تجارتی چیلنج بن چکے ہیں،رائٹرز کے مطابق چینی اوپن ویٹ ماڈلز نے اس سال سلیکان ویلی میں خاصی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ وہ کم قیمت اور زیادہ حسبِ ضرورت استعمال کے ساتھ بعض کاموں میں امریکی ماڈلز کا مقابلہ کر رہے ہیں
دوسری طرف امریکہ بھی اپنی حکمت عملی بدل رہا ہے،اوپن اے آئی اب صرف چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی نہیں رہنا چاہتی،اس کے چیف فنانشل افسر کے مطابق کمپنی نے اپنی مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے ’’جلاپینو‘‘ نامی چپ کو صرف 9 ماہ میں ابتدائی ڈیزائن کے مرحلے تک پہنچایا؟کمپنی اب مصنوعی ذہانت کو چِپ ڈیزائن، طب، مالیاتی خدمات اور دوسرے مخصوص صنعتی شعبوں میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے
یعنی اگلا مقابلہ صرف کون سا ماڈل زیادہ ذہین ہے کا نہیں بلکہ کون مصنوعی ذہانت سے حقیقی دنیا میں سب سے زیادہ کام کروا سکتا ہے کا ہے
اور اسی تبدیلی نے یورپ کو بھی اپنی پوزیشن کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے
فرانس کی مصنوعی ذہانت کمپنی مسترال نے گزشتہ روز 3 ارب یورو کی نئی سرمایہ کاری حاصل کی ہے اور اس کی مالیت تقریباً 21 ارب یورو تک پہنچ گئی ہے،یہ کسی نجی یورپی ٹیکنالوجی کمپنی کی اب تک کی سب سے بڑی ایکویٹی سرمایہ کاری قرار دی جا رہی ہے،سرمایہ کاری میں سام سنگ اور یورپی یونین سے وابستہ سرمایہ بھی شامل ہیں
مسترال اب یورپ کے لیے محض ایک کمپنی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی خودمختاری کی علامت بنتی جا رہی ہے،یورپی حکام اور سرمایہ کاروں کی تشویش یہ ہے کہ اگر براعظم مصنوعی ذہانت کے بنیادی ماڈلز، کمپیوٹنگ اور ڈیٹا کے معاملے میں امریکی اور چینی کمپنیوں پر منحصر ہو گیا تو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں یورپ کی سیاسی آزادی بھی محدود ہو سکتی ہے
مگر اعداد بتاتے ہیں کہ یورپ کے سامنے فاصلہ اب بھی بہت بڑا ہے،رواں سال کی پہلی ششماہی میں امریکی مصنوعی ذہانت کی نئی کمپنیوں نے تقریباً 392 ارب ڈالر حاصل کیے جبکہ یورپ میں یہ رقم تقریباً 42 ارب ڈالر رہی
اور پھر آتا ہے بھارت، جو اس عالمی انقلاب میں ایک عجیب دوہرے کردار کے ساتھ داخل ہوا ہے
بھارت دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی اور خدمات کی منڈیوں میں سے ایک ہے اور مصنوعی ذہانت کے صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن یہی ٹیکنالوجی اس کی سب سے بڑی آئی ٹی صنعت کے کاروباری ماڈل کو بھی تبدیل کر رہی ہے،رائٹرز کے مطابق ٹی سی ایس، انفوسس، وِپرو اور ایچ سی ایل ٹیک جیسی بڑی بھارتی کمپنیوں پر گاہک قیمتیں کم کرنے اور کم افراد سے زیادہ کام لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں،بعض گاہک اب وہ کام خود مصنوعی ذہانت کے ذریعے کرنے لگے ہیں جو پہلے بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو آؤٹ سورس کیے جاتے تھے
یہ تبدیلی بھارت کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ کئی دہائیوں سے اس کی آئی ٹی صنعت کا سب سے بڑا سرمایہ انسانی افرادی قوت رہی ہے،مصنوعی ذہانت اسی ماڈل کو چیلنج کر رہی ہے
یوں امریکہ میں مصنوعی ذہانت طاقت اور سرمایہ کا کھیل بن رہی ہے، چین میں قومی صنعتی اور عسکری حکمت عملی کا، یورپ میں خودمختاری اور بقا کا، جبکہ بھارت میں یہ سوال بنتا جا رہا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت لاکھوں ہنرمند ملازمین کی پیداواریت بڑھائے گی یا ان کے روایتی روزگار کو کم کر دے گی؟
اور اس سب کے درمیان ایک اور انتہائی اہم تبدیلی ہو رہی ہے
امریکہ اب اپنے اتحادیوں سے یہ توقع کر رہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی عالمی جنگ میں واضح طور پر اس کے ساتھ کھڑے ہوں،رائٹرز کے مطابق واشنگٹن نے ایسی پالیسی پر غور کیا ہے جس کے تحت تقریباً 35 ممالک کو امریکی مصنوعی ذہانت کے اتحاد اور چین کے متبادل نظام کے درمیان انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے،چین اس کے برعکس ’’ڈیجیٹل خودمختاری‘‘ اور کسی ایک کیمپ میں شامل نہ ہونے کی پالیسی پر زور دے رہا ہے
چین نے اس سال شنگھائی میں عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی کے اجلاس کے دوران خود کو صرف ایک ٹیکنالوجی طاقت کے طور پر نہیں بلکہ ترقی پذیر دنیا کے لیے مصنوعی ذہانت کے ایک متبادل مرکز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی،بیجنگ نے برکس، آسیان، لاطینی امریکہ اور افریقی ممالک کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی تربیت اور تعاون کے مراکز بنانے کی پیشکش بھی کی ہے
یہی وجہ ہے کہ آج کی سب سے بڑی مصنوعی ذہانت کی خبر کسی ایک نئی مشین، چیٹ بوٹ یا ماڈل کا نام نہیں
اصل خبر یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب عالمی طاقت کے نئے نقشے کو دوبارہ ترتیب دے رہی ہے
امریکہ کے پاس سرمایہ، جدید ترین کمپنیوں اور بڑے پیمانے کی نجی سرمایہ کاری کی برتری ہے، چین کم لاگت، اوپن ویٹ ماڈلز، صنعتی پیمانے اور ریاستی سرمایہ کاری کے ذریعے خلا کم کر رہا ہے،یورپ اپنی ٹیکنالوجی خودمختاری بچانے کے لیے مسترال جیسی کمپنیوں کو اربوں یورو فراہم کر رہا ہے،بھارت کے سامنے ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک بننے کا موقع ہے اور دوسری طرف اس کی روایتی آئی ٹی افرادی قوت کے مستقبل کا سوال
اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات شاید یہ ہے کہ دنیا اب مصنوعی ذہانت کے ’’مستقبل‘‘ کے بارے میں بحث نہیں کر رہی، بلکہ اس مستقبل کی ملکیت کے بارے میں لڑ رہی ہے
اگلے چند ہفتے اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں،امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے تحفظ پر مذاکرات، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات، چینی ماڈلز کی تیز رفتار پیش رفت، امریکہ کی ٹیکنالوجی پابندیاں، یورپ کی خودمختار مصنوعی ذہانت کی کوششیں اور بھارت کی روزگار پر پڑنے والی ضرب، یہ سب ایک ہی بڑی کہانی کے مختلف حصے ہیں
مصنوعی ذہانت کی اگلی جنگ شاید اس بات پر نہیں ہو گی کہ سب سے ذہین مشین کس کے پاس ہے،اصل جنگ یہ ہو گی کہ دنیا کی معیشت، فوج، سائنس، صنعت اور انسانی کام کرنے کا طریقہ آخر کس کے بنائے ہوئے مصنوعی ذہانت کے نظام کے تابع ہو گا





