Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

شام میں اسرائیلی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں، اقوام متحدہ کی تحقیقات میں انتباہ

شام میں اسرائیلی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں، اقوام متحدہ کی تحقیقات میں انتباہ

اقوام متحدہ کی شام سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی نے شام کے اندر اسرائیلی فوجی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض کارروائیاں، خصوصاً شہریوں کی گرفتاری اور انہیں سرحد پار منتقل کرنا، جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں کمیٹی کی رکن فیونوالا نی اولین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں مسلسل اور زیادہ گہری ہوتی جارہی ہیں
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی شام میں زمینی دراندازی، گشت، چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیاں مسلسل کر رہی ہے، جبکہ شامی علاقے میں عارضی چوکیاں اور مستقل فوجی تنصیبات بھی قائم کی گئی ہیں ان سرگرمیوں سے مقامی شہری آبادی متاثر ہوئی ہے اور بعض علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی بھی ہوئی ہے
کمیٹی کے مطابق جون 2026 تک 49 شامی شہریوں کو اسرائیلی فوج نے شامی علاقے کے اندر حراست میں لیا، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ممکنہ طور پر سرحد پار اسرائیل منتقل کیا گیا بعض زیرحراست افراد کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انہیں بیرونی دنیا سے رابطے کے بغیر رکھا گیا، جس سے تشدد یا ناروا سلوک کے خدشات پیدا ہوتے ہیں
اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے شام میں اسرائیلی موجودگی کو ’’جنگی قبضہ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں مقامی آبادی کو بے دخلی اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کمیٹی نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے پر زور دیا ہے
یہ صورتحال دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد مزید نمایاں ہوئی، جب اسرائیلی فوج اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون میں داخل ہوئی اسرائیل نے اس اقدام کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد اپنی سرحدوں کو سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے
اس کے بعد اسرائیل نے شام کے اندر فوجی تنصیبات پر سیکڑوں حملے کیے اور بعض مقامات پر مزید پوزیشنیں قائم کیں شام اور اقوام متحدہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات شام کی خودمختاری اور 1974 کے اسرائیل شام علیحدگی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اقوام متحدہ کی نگرانی فورس اسی معاہدے کے تحت دونوں جانب کی فوجوں کے درمیان جنگ بندی اور علیحدگی کی نگرانی کرتی ہے
اسرائیلی مشن نے اقوام متحدہ کی تحقیق پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اسرائیل مخالف کارروائی قرار دیا اور کہا ہے کہ اسرائیل کا شام میں کسی علاقے پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق اس کی فوجی موجودگی اپنے شہریوں کو سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے
شام اس وقت سابق حکومت کے خاتمے کے تقریباً 2 سال بعد سیاسی اور معاشی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں شام کے جنوبی علاقوں میں مسلسل فوجی کارروائیاں مقامی آبادی کے لیے مزید عدم تحفظ پیدا کر رہی ہیں اور ملک کی بحالی کے عمل کو متاثر کرسکتی ہیں
شام نے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی ہے دمشق کا مؤقف ہے کہ اس کی سرزمین پر فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ حکومت نے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اس معاملے میں مزید تحقیقات اور احتساب کی ضرورت پر زور دیا ہے، خصوصاً ان واقعات کے حوالے سے جن میں شہریوں کو حراست میں لینے، سرحد پار منتقل کرنے، بے دخل کرنے یا مبینہ ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا

قومی خبریں سے مزید