Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گوادر چین کے لیے معاشی منصوبے سے زیادہ اہم حکمت عملی کا مرکز بنتا جا رہا ہے

گوادر چین کے لیے معاشی منصوبے سے زیادہ اہم حکمت عملی کا مرکز بنتا جا رہا ہے

گوادر کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی مرکز اور خطے میں تجارت کا بڑا دروازہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود گوادر میں وہ بڑی کاروباری اور معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں ہو سکیں جن کی توقع کی جا رہی تھی اس کے باوجود چین گوادر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے
چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اعلان 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کے دوران کیا گیا تھا اس منصوبے کے تحت گوادر بندرگاہ کو چین کے سنکیانگ کے شہر کاشغر سے سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے ذریعے ملانے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ چینی سرکاری کمپنی کو گوادر بندرگاہ چلانے کے لیے 40 سالہ معاہدہ بھی دیا گیا
گوادر کو اس منصوبے کا تاج اور پاکستان کے لیے معاشی انقلاب کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا، لیکن عملی طور پر یہ شہر اب تک بڑی معاشی سرگرمیوں سے محروم ہے بلوچستان میں بدامنی اور چینی شہریوں و منصوبوں پر حملوں نے بھی اقتصادی راہداری کی رفتار کو متاثر کیا ہے
اس کے باوجود چین نے گوادر میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ 168 ملین ڈالر کی لاگت سے ایسٹ بے ایکسپریس وے تعمیر کی گئی، جو بندرگاہ کو مکران کوسٹل ہائی وے سے ملاتی ہے اسی طرح 320 ملین ڈالر کی لاگت سے نیا گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈا تعمیر کیا گیا، جس کا افتتاح جنوری 2025 میں بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا، تاہم یہ شاندار ہوائی اڈا ابھی عملی طور پر غیر فعال ہے
ماہرین کے مطابق گوادر میں چین کی مسلسل سرمایہ کاری کو صرف فوری منافع کے حساب سے دیکھنا درست نہیں چین کے لیے یہ بندرگاہ مستقبل میں ایک اہم منصوبہ ہے گوادر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور اسی وجہ سے یہ چین کے لیے تیل، توانائی، سامان کی ترسیل اور سمندری راستوں کے حوالے سے بہت اہم ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین گوادر کو اپنی طویل مدتی سمندری حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ بحر ہند میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اہم سمندری راستوں تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے چین گوادر کو ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھ سکتا ہے
گوادر کی موجودہ صورتحال میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بندرگاہ اور بڑے منصوبوں پر بہت بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود مقامی آبادی کو ترقی کے فوائد محدود پیمانے پر ملے ہیں ہزاروں چینی کارکن سخت حفاظتی انتظامات کے تحت مقامی آبادی سے الگ رہتے اور کام کرتے ہیں، جبکہ مقامی ماہی گیروں کو بھی بنیادی ڈھانچے کے بعض منصوبوں سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے
خصوصاً ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے باعث ماہی گیروں کی سمندر تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں میں یہ احساس بڑھا ہے کہ گوادر میں ہونے والی ترقی سے انہیں وہ فائدہ نہیں مل رہا جس کی انہیں توقع تھی مقامی سماجی کارکنوں کے مطابق شہر میں بنیادی سہولتوں کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے اور شدید بارش کے دوران شہر کے کئی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں
رواں سال اپریل میں 2 مال بردار بحری جہاز گوادر بندرگاہ پر پہنچے تو اسے بندرگاہ کی سرگرمیوں میں اضافے کی علامت قرار دیا گیا خطے میں جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش نے بھی گوادر کے لیے عارضی طور پر ایک نیا موقع پیدا کیا، کیونکہ یہ بندرگاہ ایران اور وسطی ایشیا کی جانب بحری نقل و حمل کے لیے ایک نسبتاً مختصر راستہ فراہم کر سکتی ہے
اسی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بندرگاہ پر بین الاقوامی نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے محصولات میں نمایاں کمی کا اعلان بھی کیا گیا تاہم ماہرین کے مطابق موجودہ اضافی سرگرمی بڑی حد تک خطے کی جنگی اور سیاسی صورتحال سے پیدا ہوئی ہے، اس لیے اسے گوادر کی مستقل تجارتی کامیابی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا
گوادر کی کہانی اب صرف ایک بندرگاہ یا معاشی منصوبے تک محدود نہیں رہی چین کے لیے یہ شہر مستقبل میں تیل، سامان کی ترسیل، سمندری راستوں اور بحر ہند میں اپنی موجودگی کے حوالے سے بہت اہم ہو سکتا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ گوادر میں ہونے والی بڑی سرمایہ کاری کا فائدہ مقامی لوگوں تک کب اور کس حد تک پہنچتا ہے

قومی خبریں سے مزید