Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں صاف ہوا اب صرف صحت نہیں، معیشت کا بھی سوال بن چکی ہے

پاکستان میں صاف ہوا اب صرف صحت نہیں، معیشت کا بھی سوال بن چکی ہے

پاکستان میں فضائی آلودگی اب صرف سردیوں کی دھند یا موسمی مسئلہ نہیں رہی بلکہ پورا سال جاری رہنے والا سنگین عوامی صحت اور معاشی بحران بن چکی ہے ماہرین کے مطابق آلودہ ہوا انسانی صحت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت، کاروباری سرگرمیوں، سرکاری مالیات اور مجموعی معاشی استحکام کو بھی متاثر کر رہی ہے
پاکستان نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے 2023 میں قومی صاف ہوا پالیسی منظور کی تھی، جبکہ پنجاب میں بھی اسی سال صاف ہوا کی پالیسی اور مرحلہ وار عملی منصوبہ منظور کیا گیا تاہم اصل مسئلہ اب نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر، قابل پیمائش اور باقاعدہ عمل درآمد یقینی بنانا ہے
عالمی بینک کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان کی معیشت کو ہر سال مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 6.5 فیصد کے برابر نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پنجاب میں فضاء میں موجود انتہائی باریک آلودہ ذرات کی سالانہ اوسط مقدار تقریباً 52 مائیکروگرام فی مکعب میٹر بتائی گئی ہے، جو عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ تجویز کردہ حد 5 مائیکروگرام سے 10 گنا سے بھی زیادہ ہے۔ وسطی لاہور میں بعض مقامات پر سالانہ اوسط 110 سے 130 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک ریکارڈ کی گئی
رپورٹ کے مطابق 2019 میں پاکستان میں فضائی آلودگی سے منسلک بیماریوں اور قبل از وقت اموات کا معاشی بوجھ صحت کے اخراجات کی صورت میں مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 9 فیصد کے برابر تھا۔ یہ مختلف نوعیت کے معاشی اندازے ہیں، اس لیے انہیں آپس میں جمع نہیں کیا جا سکتا، تاہم دونوں اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آلودہ ہوا ملک کو بہت بڑا معاشی نقصان پہنچا رہی ہے
گھریلو آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ پنجاب میں باریک آلودہ ذرات کی تقریباً 23 فیصد مقدار رہائشی ذرائع سے منسلک بتائی گئی ہے، جبکہ لاہور کے وسیع شہری علاقے میں یہ تناسب تقریباً 28 فیصد تک پہنچ جاتا ہے گھروں میں ٹھوس ایندھن جلانے سے خواتین اور بچیاں خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں کیونکہ انہیں کھانا پکانے کے دوران آلودہ دھوئیں کا زیادہ سامنا رہتا ہے بچے، بزرگ، کم آمدنی والے گھرانے، بیرونی کام کرنے والے افراد اور صنعتی علاقوں یا بڑی سڑکوں کے قریب رہنے والی آبادی بھی زیادہ خطرے میں ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سب سے پہلے فضائی آلودگی کے قابل اعتماد قومی اعداد و شمار کا نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مختلف علاقوں میں آلودگی کہاں سے پیدا ہو رہی ہے ٹرانسپورٹ، صنعت، گھریلو ایندھن، زراعت، کچرے، گردوغبار اور دیگر ذرائع کے حصے کا درست تعین کیے بغیر مؤثر منصوبہ بندی ممکن نہیں
قومی صاف ہوا پالیسی میں 2030 تک باریک آلودہ ذرات کے اخراج میں 38 فیصد اور 2040 تک 81 فیصد کمی کا ہدف رکھا گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ان اہداف کو عملی شکل دینے کے لیے واضح ذمہ داریاں، مخصوص بجٹ، سالانہ اہداف، باقاعدہ نگرانی اور عوام کے سامنے پیش رفت کی رپورٹ ضروری ہے
فضائی آلودگی صوبائی اور ملکی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی پنجاب میں 2021 کے دوران باریک آلودہ ذرات کی تقریباً 53 فیصد آلودگی صوبے کے اندر سے، 9 فیصد دوسرے صوبوں سے اور 13 فیصد بیرون ملک سے آنے کا تخمینہ لگایا گیا اس لیے مقامی اقدامات کے ساتھ صوبائی اور علاقائی تعاون بھی ضروری ہے
ماہرین نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بھی فضائی آلودگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ بنانے کی تجویز دی ہے صنعتی اداروں کو قرض دیتے وقت آلودگی، پرانی ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی جیسے خطرات کو مدنظر رکھا جائے اور ان اداروں کو مالی سہولت دی جائے جو صاف ٹیکنالوجی اختیار کرکے آلودگی میں قابل تصدیق کمی لائیں
رپورٹ میں حکومت کے لیے چند اہم ترجیحات بھی سامنے رکھی گئی ہیں، جن میں قومی صاف ہوا پالیسی کے لیے وقت مقرر کرکے عملی منصوبہ بنانا، وفاق اور صوبوں کی ذمہ داریاں واضح کرنا، ملک بھر میں فضائی آلودگی کی قابل اعتماد پیمائش کا نظام قائم کرنا، مالیاتی اداروں کے قرض دینے کے عمل میں آلودگی کے خطرات کو شامل کرنا اور صنعت، ٹرانسپورٹ، اینٹوں کے بھٹوں، زرعی باقیات اور شہری کچرے جیسے بڑے آلودگی کے ذرائع کے لیے قابل عمل سرمایہ کاری منصوبے تیار کرنا شامل ہیں
ماہرین کے مطابق پاکستان کو معاشی ترقی اور صاف ہوا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں حقیقت یہ ہے کہ خراب ہوا پہلے ہی معاشی ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہے، کیونکہ اس سے صحت کے اخراجات بڑھتے ہیں، مزدوروں کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے، تعلیم متاثر ہوتی ہے، فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے
اصل فیصلہ یہ ہے کہ پاکستان آلودگی سے ہونے والے نقصان کی قیمت بعد میں ادا کرتا رہے گا یا ابھی صاف ٹیکنالوجی، بہتر نگرانی اور مؤثر پالیسیوں میں سرمایہ کاری کرکے اس نقصان کو روکنے کی کوشش کرے گا

قومی خبریں سے مزید