Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تیسرے ٹیسٹ سے پہلے پاکستانی کھلاڑیوں کے موبائل فون تحویل میں لے لیے گئے، میچ فکسنگ کے خدشات نے نیا تنازع کھڑا کردیا

تیسرے ٹیسٹ سے پہلے پاکستانی کھلاڑیوں کے موبائل فون تحویل میں لے لیے گئے، میچ فکسنگ کے خدشات نے نیا تنازع کھڑا کردیا

انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری مقابلے سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم ایک اور تنازع کی زد میں آگئی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کے موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیے ہیں، جس کے بعد ٹیم کے اندرونی معاملات، کھلاڑیوں کی نجی معلومات اور ممکنہ بدعنوانی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موبائل فونز کو کسی ممکنہ تحقیقات کے سلسلے میں تحویل میں لیا گیا ہے اور یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان ٹیم پہلے ہی انگلینڈ کے دورے میں شدید بحران کا شکار ہے۔ تاہم بورڈ کی جانب سے اب تک باضابطہ طور پر یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ موبائل فونز کیوں لیے گئے یا ان میں کیا تلاش کیا جا رہا ہے
موبائل فونز تحویل میں لیے جانے کی خبر نے خاص طور پر میچ فکسنگ یا غیر قانونی رابطوں کے خدشات کو جنم دیا ہے کرکٹ میں کھلاڑیوں کے موبائل فون کے استعمال پر سخت ضابطے موجود ہیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں سٹے بازی، غیر مجاز معلومات کی ترسیل یا بیرونی افراد سے مشکوک رابطوں کا خدشہ ہو۔ تاہم اس وقت تک کسی پاکستانی کھلاڑی پر میچ فکسنگ یا بدعنوانی کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی باضابطہ تحقیقات کی تصدیق سامنے آئی ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے خلاف ابتدائی 2 ٹیسٹ میچوں میں مسلسل شکستوں کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ پاکستان پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست کھا چکا ہے دونوں میچوں میں پاکستانی بیٹنگ بری طرح ناکام رہی اور کوئی بھی اننگز 200 رنز تک نہیں پہنچ سکی
بورڈ نے تیسرے ٹیسٹ سے قبل 7 کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا، جن میں محمد رضوان، سلمان علی آغا اور امام الحق بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور مائیک ہیسن کو آخری ٹیسٹ کے لیے ذمہ داری سونپی گئی
ان اچانک تبدیلیوں پر سابق پاکستانی کپتانوں اور سابق کوچز کی جانب سے بھی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ رمیز راجا نے اسے گھبراہٹ میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا، جبکہ شاہد آفریدی اور مکی آرتھر سمیت دیگر شخصیات نے بورڈ کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں
اب موبائل فونز تحویل میں لیے جانے کی خبر نے بحران کو مزید گہرا کردیا ہے اگرچہ یہ واضح نہیں کہ اقدام محض حفاظتی اور ضابطہ جاتی نوعیت کا ہے یا کسی مخصوص شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہیں، لیکن کھلاڑیوں کے ذاتی فونز کی جانچ سے متعلق سوالات نے ان کی نجی زندگی اور حقوق کے حوالے سے بھی بحث چھیڑ دی ہے
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں کھیلا جائے گا انگلینڈ پہلے ہی سیریز میں 2 صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کرچکا ہے، جبکہ پاکستان کے لیے آخری میچ نہ صرف وائٹ واش سے بچنے بلکہ موجودہ بحران کے دوران ٹیم کا حوصلہ بحال کرنے کا بھی اہم موقع ہوگا

قومی خبریں سے مزید