سینکڑوں کروڑ روپے کے عطیات، بند دفاتر اور کوئی جواب نہیں، بھارت کی غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کا حیران کن مالیاتی معاملہ
بھارت میں بعض ایسی سیاسی جماعتوں کے مالی معاملات پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں جو انتخابی سیاست میں تقریباً غیر فعال نظر آتی ہیں، لیکن ان کے نام پر کروڑوں بلکہ سینکڑوں کروڑ روپے کے عطیات ظاہر کیے گئے ہیں۔ تازہ رپورٹ میں ایسی جماعتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن کے دفاتر بند ہیں، عہدیدار دستیاب نہیں اور بعض جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ خود جماعت سے استعفیٰ دے چکے ہیں
رپورٹ کے مطابق ایک جماعت کے عطیات صرف 4 سال میں 8,000 روپے سے بڑھ کر 620 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، لیکن جب اس جماعت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا باقاعدہ فعال دفتر موجود نہیں تھا۔ جماعت سے وابستہ افراد نے بھی خود کو اس سے الگ قرار دیا
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت میں ایسی جماعتیں انتخابی کمیشن کے پاس رجسٹرڈ تو ہوسکتی ہیں، لیکن انہیں ریاستی یا قومی سطح کی تسلیم شدہ سیاسی جماعت کا درجہ حاصل نہیں ہوتا اس کے باوجود انہیں قانونی طور پر عطیات حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے، جس سے سیاسی چندوں اور ٹیکس رعایتوں کے حوالے سے اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں
ایک وسیع تحقیق میں 10 ایسی جماعتوں کے مالی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جنہیں کروڑوں روپے کے عطیات ملے، مگر ان کی عملی سیاسی سرگرمیاں انتہائی محدود دکھائی دیں بعض جماعتوں نے اپنے اخراجات کو بڑے پیمانے پر صرف سماجی بہبود یا انتظامی اخراجات کے طور پر ظاہر کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ رقم حقیقت میں کہاں اور کیسے خرچ ہوئی
رپورٹ میں گجرات سے تعلق رکھنے والی بعض جماعتوں کا معاملہ بھی نمایاں کیا گیا ہے بعض جماعتوں کے دفاتر ویران یا بند پائے گئے، جبکہ ان کے مالی ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر عطیات درج تھے ایک جماعت کے ذمہ دار نے یہاں تک بتایا کہ جماعت کے تمام ارکان استعفیٰ دے چکے ہیں، اس کے باوجود اس کے نام پر بینک اکاؤنٹ موجود تھا
اس طرح کے معاملات ماضی میں بھی بھارتی محکمہ انکم ٹیکس کی تحقیقات کا حصہ بن چکے ہیں 2022 میں کارروائی کے دوران ایک ایسی غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعت کا سراغ ملا تھا جو گھڑیوں کی مرمت کی دکان سے چل رہی تھی اور اسے 3 سال کے دوران تقریباً 370 کروڑ روپے کے عطیات ملے تھے۔ دیگر جماعتوں کے بارے میں بھی کروڑوں روپے کے عطیات اور مشکوک مالی لین دین کی تحقیقات کی گئی تھیں
تحقیقات میں یہ الزام بھی سامنے آیا تھا کہ بعض سیاسی جماعتوں کے ذریعے عطیات کی دستاویزات تیار کرکے عطیہ دینے والوں کو ٹیکس میں رعایت حاصل کرنے کا راستہ فراہم کیا جاتا، جبکہ رقم مختلف اداروں کے ذریعے منتقل کرنے کے بعد واپس کیے جانے کے معاملات بھی سامنے آئے تھے
حالیہ رپورٹ کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ان جماعتوں کو اتنی بڑی رقوم کہاں سے ملیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ رقم کہاں گئی، جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں اتنی محدود ہونے کے باوجود اتنے بڑے عطیات کیوں دیے گئے اور ان جماعتوں کے مالی ریکارڈ کی مؤثر نگرانی کیوں نہیں ہوئی
اس معاملے نے سیاسی چندوں میں شفافیت، انتخابی نگرانی اور ٹیکس قوانین کے غلط استعمال کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے اگر کوئی جماعت کروڑوں روپے وصول کرے لیکن اس کی سیاسی سرگرمیاں، دفاتر اور عہدیدار عملی طور پر نظر ہی نہ آئیں تو اس کے مالی معاملات کی مکمل اور شفاف جانچ ایک اہم جمہوری ضرورت بن جاتی ہے





