Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کا نیا تضاد، بائیں بازو کی سیاست بڑھ رہی ہے مگر امیدوار ’سوشلسٹ‘ کہلانے سے کیوں گریزاں ہیں؟

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کا نیا تضاد، بائیں بازو کی سیاست بڑھ رہی ہے مگر امیدوار ’سوشلسٹ‘ کہلانے سے کیوں گریزاں ہیں؟

ڈیموکریٹک پارٹی میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایک دلچسپ سیاسی تضاد ابھر کر سامنے آیا ہے،پارٹی کے اندر ترقی پسند اور بائیں بازو کے امیدوار پے در پے اہم پرائمری مقابلے جیت رہے ہیں، ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی تنظیمی طاقت بڑھ رہی ہے اور صحت عامہ، مزدور حقوق، معاشی عدم مساوات اور بڑے کاروباری مفادات کے خلاف سخت پالیسیوں کی حمایت میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے،لیکن ان میں سے ہر امیدوار خود کو ’’سوشلسٹ‘‘ کہلوانے کے لیے تیار نہیں
مشی گن سے سینیٹ کی ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل کرنے والے عبدل السید اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال ہیں،پرائمری جیتنے سے چند روز قبل جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں ’’سوشلسٹ‘‘ کہلانے کی فکر ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ خود کو ایسا سرمایہ دار سمجھتے ہیں جس نے سرمایہ داری کا واقعی مطالعہ کیا ہے،انہوں نے صاف الفاظ میں کہا،” میں سوشلسٹ نہیں ہوں”
السید کی سیاست تاہم روایتی امریکی مرکز پسند ڈیموکریٹک سیاست سے مختلف ہے،وہ عالمگیر صحت عامہ کے نظام، اجارہ داریوں کو محدود کرنے اور معاشی طاقت کے ارتکاز کے خلاف پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں،اسی وجہ سے ان کی سیاست کو ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کے وسیع تر سیاسی پروگرام کے قریب سمجھا جاتا ہے، اگرچہ وہ اس تنظیم کے رکن نہیں ہیں
یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے،کیا امریکی بائیں بازو کی سیاست اب اتنی وسیع ہو چکی ہے کہ اسے صرف ’’ڈیموکریٹک سوشلزم‘‘ کے نام سے بیان نہیں کیا جا سکتا؟
2026 کی پرائمریوں کے نتائج اس سوال کو اہم بنا رہے ہیں،ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ سے وابستہ یا اس کے نظریات کے قریب سمجھے جانے والے امیدواروں نے نیویارک، کولوراڈو، پنسلوانیا اور دوسری ریاستوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں،نیویارک میں زوہران ممدانی کی مئیر کے طور پر کامیابی کے بعد تنظیم سے وابستہ امیدواروں نے کانگریس اور مقامی حکومتوں کی مزید نشستوں کے لیے بھی کامیابیاں حاصل کیں
تنظیم کی رکنیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے،گارڈین کے مطابق ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی مجموعی رکنیت تقریباً 120,000 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نیویارک سٹی کا باب، جو تنظیم کا سب سے بڑا اور فعال یونٹ ہے، 2024 کے آخر میں تقریباً 5,900 واجب الادا فیس دینے والے ارکان رکھتا تھا اور 2026 کے پرائمری انتخابات سے قبل یہ تعداد تقریبا 14,000 تک پہنچ گئی
لیکن اس بڑھتی ہوئی تنظیمی طاقت کو پورے ڈیموکریٹک ووٹر کی یکساں نظریاتی تبدیلی سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا،بروکنگز کے جائزے کے مطابق 2026 کی پرائمریوں میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر ان کی مجموعی رسائی اب بھی مخصوص انتخابی علاقوں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض حلقوں میں زیادہ مضبوط ہے
اسی لیے السید کا ’’میں سوشلسٹ نہیں ہوں‘‘ کہنا محض ایک ذاتی سیاسی وضاحت نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر جاری وسیع تر بحث کی علامت بھی ہے،ایک طرف ترقی پسند کارکن اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ تنظیمیں پارٹی کو معاشی اور سماجی پالیسیوں میں مزید بائیں طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں، دوسری طرف بعض امیدوار انہی پالیسی ترجیحات میں سے بہت سی کو اپناتے ہوئے اپنی انتخابی شناخت کو ’’سوشلزم‘‘ سے الگ رکھنا چاہتے ہیں
اس فرق کی ایک وجہ امریکی سیاست کی زبان بھی ہے،” ترقی پسند‘‘، ’’بائیں بازو‘‘ اور ’’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘‘ ایک دوسرے کے مترادف نہیں،ممدانی خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں، جبکہ السید اس شناخت کو قبول نہیں کرتے،اسی طرح کچھ امیدوار ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی حمایت حاصل کرتے ہیں مگر خود تنظیم کے رکن نہیں ہوتے،یوں ایک وسیع تر ترقی پسند سیاسی اتحاد وجود میں آ رہا ہے جس کی سرحدیں رسمی تنظیمی رکنیت سے کہیں آگے ہیں
السید کی مشی گن پرائمری کامیابی نے اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے،انہوں نے نسبتاً روایتی ڈیموکریٹک امیدوار ہیلی اسٹیونز کو شکست دی، جبکہ ان کے مقابلے میں بیرونی گروپوں کی جانب سے کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے،ان کی مہم نے اپنی کامیابی کو بڑے مالی وسائل کے مقابلے میں نچلی سطح کی سیاسی تنظیم کی کامیابی کے طور پر پیش کیا
مگر مشی گن کی سیاست کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ ایک ترقی پسند امیدوار نے پرائمری جیت لی، اہم بات یہ ہے کہ ایک ایسے امیدوار نے، جس کی کئی پالیسیاں بائیں بازو کے سیاسی ایجنڈے سے قریب ہیں، انتخابی شناخت کے طور پر ’’سوشلسٹ‘‘ کا لیبل قبول کرنے سے انکار کیا
یہی شاید 2026 کے ڈیموکریٹک منظرنامے کا سب سے اہم سوال بن رہا ہے،کیا پارٹی بائیں جانب بڑھ رہی ہے، یا امریکی ووٹر کے سامنے بائیں بازو کی سیاست کو پیش کرنے کا انداز تبدیل ہو رہا ہے؟
ابھی دونوں باتیں بیک وقت درست ہو سکتی ہیں،ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی تنظیمی قوت بڑھ رہی ہے، اس کے حمایت یافتہ امیدوار اہم کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، لیکن اسی وقت السید جیسے امیدوار یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ترقی پسند پالیسیوں کی حمایت اور خود کو ’’سوشلسٹ‘‘ قرار دینا لازماً ایک ہی سیاسی شناخت نہیں،2026 کے وسط مدتی انتخابات اس فرق کو مزید واضح کریں گے کہ یہ بڑھتی ہوئی بائیں بازو کی توانائی ڈیموکریٹک پارٹی کی مستقل نظریاتی تبدیلی ہے یا مختلف نوعیت کے ترقی پسند امیدواروں کا عارضی انتخابی اتحاد

قومی خبریں سے مزید