مشکوک آڈیو نے مشی گن کی انتخابی دوڑ ہلا دی، ماہرین جعلی یا مصنوعی ہونے کی تصدیق نہ کر سکے
مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار جیریمی موس سے منسوب ایک 25 سیکنڈ کی آڈیو ریکارڈنگ نے امریکی انتخابی سیاست میں مصنوعی ذہانت اور سیاسی گمراہ کن مواد کے بڑھتے ہوئے خطرے کو نمایاں کر دیا ہے، تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ آڈیو اصلی ہے یا جعلی
یہ ریکارڈنگ پہلی بار نومبر 2025 میں ایک ریڈٹ فورم پر سامنے آئی، جس میں ایک آواز مبینہ طور پر موس کی بتائی گئی اور اسے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ ان کی انتخابی مہم کا بنیادی مقصد اسرائیل کے لیے امریکی حمایت جاری رکھنا ہے،یہ کلپ جولائی 2026 میں موس کی ڈیموکریٹک حریف عائشہ فاروقی نے دوبارہ سوشل میڈیا پر جاری کیا، جس کے بعد معاملہ تیزی سے پھیل گیا۔
بعد میں بائیں بازو کے معروف آن لائن مبصر حسن پائیکر نے 20 اگست کو اپنی نشریات میں اسی آڈیو کا حوالہ دیا،ان کے تبصروں کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل، امریکی یہودیوں اور سیاسی وفاداری کے معاملے پر شدید بحث شروع ہوئی، جبکہ مشی گن کے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدال السید کو بھی پائیکر کے تبصروں سے فاصلہ ظاہر کرنا پڑا
موس نے آڈیو کو من گھڑت یا تبدیل شدہ سیاسی گمراہ کن مواد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایسی باتیں شامل ہیں جو انہوں نے کبھی نہیں کہیں،دوسری طرف واشنگٹن پوسٹ کے لیے آڈیو کا جائزہ لینے والے ڈیجیٹل فرانزک ماہرین کو اس میں مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل کیے جانے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا،ایک ماہر کے مطابق آڈیو میں جوڑ توڑ کے آثار نہیں ملے اور اس کے میٹا ڈیٹا سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ آئی فون سے ریکارڈ کی گئی ہو سکتی ہے
لیکن ماہرین یہ بھی ثابت نہیں کر سکے کہ آواز واقعی موس ہی کی ہے، ریکارڈنگ کس نے کی، یا آڈیو کے کسی حصے کو اصل گفتگو کے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا تھا یا نہیں،یہی غیر یقینی اس معاملے کا سب سے اہم پہلو بن گئی ہے۔
یہ واقعہ امریکی سیاست میں ایک نئے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے،مصنوعی ذہانت نے جعلی آوازیں اور ویڈیوز بنانا آسان کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی اب سیاسی شخصیات حقیقی مواد کو بھی یہ کہہ کر مسترد کر سکتی ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت سے بنایا گیا ہے،یوں انتخابی سیاست میں مسئلہ صرف جعلی مواد کی شناخت نہیں رہا بلکہ یہ طے کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ عوام کس ثبوت پر اعتماد کریں





