Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایک سال بعد بھی نیویارک کی فیکٹری پر آئی سی ای چھاپے کے سوالات برقرار، 57 گرفتاریاں اور خواتین کے واش روم تک وفاقی اہلکاروں کی رسائی زیرِبحث

ایک سال بعد بھی نیویارک کی فیکٹری پر آئی سی ای چھاپے کے سوالات برقرار، 57 گرفتاریاں اور خواتین کے واش روم تک وفاقی اہلکاروں کی رسائی زیرِبحث

کیٹو: نیویارک کے ایک چھوٹے سے قصبے کی خوراک بنانے والی فیکٹری پر وفاقی امیگریشن حکام کے ایک سال قبل کیے گئے بڑے چھاپے نے ایک بار پھر قانونی اور انتظامی نگرانی کی توجہ حاصل کر لی ہے،4 ستمبر 2025 کو 60 سے زیادہ وفاقی اہلکاروں نے، جن میں متعدد اہلکار نقاب اور فوجی طرز کا حفاظتی لباس پہنے ہوئے تھے، کیٹو میں خاندانی ملکیت والی نیوٹریشن بار کنفیکشنرز فیکٹری پر کارروائی کی تھی، جہاں تقریباً 160 افراد کام کر رہے تھے
اس کارروائی کے دوران 57 کارکن گرفتار ہوئے،وفاقی استغاثہ کے مطابق ان میں سے 5 افراد پر امریکہ میں غیر قانونی طور پر دوبارہ داخل ہونے کے الزامات عائد کیے گئے، جبکہ باقی افراد کو ملک بدری کی کارروائی کا سامنا تھا
لیکن ایک سال بعد اصل سوال صرف یہ نہیں رہا کہ گرفتار کیے گئے کارکنوں میں سے کون قانونی حیثیت رکھتا تھا اور کون نہیں، بلکہ یہ بھی زیرِبحث ہے کہ وفاقی ایجنٹوں نے فیکٹری کے اندر کارروائی کس دائرۂ اختیار کے تحت کی اور کیا انہوں نے عدالتی اجازت کی حدود سے تجاوز کیا
بلومبرگ لا کی تازہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکام نے کئی ماہ تک اس فیکٹری کی تحقیقات کی تھیں اور 2 وارنٹ حاصل کیے تھے،ایک وارنٹ کمپنی کے ریکارڈ اور الیکٹرانک آلات قبضے میں لینے کے لیے تھا، جبکہ دوسرے میں ملازمین سے رضاکارانہ طور پر پوچھ گچھ کی اجازت شامل تھی،رپورٹ کے مطابق اس وارنٹ کے تحت کارکنوں کو زبردستی سوالات کے جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا تھا اور کسی کارکن کو اس وقت تک گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا جب تک اس کے غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہونے کے بارے میں قابلِ اعتبار قانونی بنیاد موجود نہ ہو
اس کے باوجود کارروائی کے دوران ایجنٹوں نے کارکنوں کو ایک جگہ جمع کیا،قانونی ریکارڈ اور حقوق کے وکلا کے مطابق بعض کارکنوں کو انفرادی شبہے کے بغیر بھی حراست میں لیا گیا،نیویارک سول لبرٹیز یونین نے بعد میں وارنٹس اور کارروائی کے ریکارڈ سامنے آنے کے بعد الزام عائد کیا کہ ایجنٹوں نے 160 کارکنوں کو اجتماعی طور پر گھیر کر ان کی امیگریشن حیثیت کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جو آئینی تحفظات کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے
چھاپے کے دوران خواتین کے واش روم میں وفاقی اہلکاروں کے داخل ہونے کا معاملہ بھی قانونی تنازعہ کا حصہ بن گیا،بعد میں سامنے آنے والی باڈی کیمرہ فوٹیج کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ اہلکار خواتین کے غسل خانے میں داخل ہوئے اور وہاں موجود کارکنوں کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا
اس چھاپے کے انسانی اثرات بھی نمایاں رہے،نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے کارروائی کے بعد فیکٹری کا دورہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ کم از کم 3 مائیں، جن کے بچے ایک سال سے کم عمر تھے، حراست میں لیے جانے کے باعث اپنے شیر خوار بچوں سے جدا ہو گئی تھیں،فیکٹری انتظامیہ کے مطابق چھاپے کے بعد کئی کارکن خوف کے باعث واپس کام پر نہیں آئے اور پیداوار بھی شدید متاثر ہوئی
تاہم وفاقی حکومت نے چھاپے کو غیر قانونی کارروائی قرار دینے کے دعووں کو مسترد کیا تھا،محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے واضح کیا کہ حکام کے پاس کارروائی کے لیے ایک فوجداری وارنٹ موجود تھا اور یہ آپریشن ایک جاری فوجداری تحقیقات کا حصہ تھا،حکام نے گرفتار کیے گئے بعض افراد کے سابقہ فوجداری مقدمات یا غیر قانونی طور پر دوبارہ امریکہ داخل ہونے کے معاملات کا بھی حوالہ دیا تھا
بعد کی تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ فیکٹری کے خلاف وفاقی تحقیقات چھاپے سے کئی ماہ پہلے شروع ہو چکی تھیں،نومبر 2025 میں سامنے آنے والے حلف ناموں کے مطابق تحقیقات میں مخبری، ٹریفک روکنے کے واقعات اور فیکٹری کی نگرانی شامل تھی، جبکہ حکام نے ایسے افراد کے بیانات بھی حاصل کیے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان سے ملازمت کے لیے قانونی دستاویزات طلب نہیں کی گئیں
ایک سال بعد یہ واقعہ اس وسیع تر سوال کی علامت بن چکا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف وفاقی کارروائی کرتے ہوئے حکومت کس حد تک اجتماعی کارروائی کر سکتی ہے اور کارکنوں کے آئینی حقوق کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے،کیٹو کا چھاپہ اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ ایک ہی کارروائی میں درجنوں کارکن گرفتار ہوئے، خاندان متاثر ہوئے اور ایک مقامی کاروبار کی معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں
یوں 4 ستمبر 2025 کا وہ چھاپہ، جو اس وقت ایک بڑی امیگریشن کارروائی کے طور پر سامنے آیا تھا، ایک سال بعد بھی محض امیگریشن قانون کے نفاذ کا واقعہ نہیں رہا،اب اس کے ساتھ وارنٹ کی حدود، انفرادی شبہے کے بغیر گرفتاری، آئینی حقوق اور وفاقی طاقت کے استعمال کے سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں

قومی خبریں سے مزید