Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تجارتی جنگ کے دوران کینیڈا میں خوراک کی قیمتیں کم کرنے کے لیے علاقائی خوراک مراکز قائم کرنے کی تیاری

تجارتی جنگ کے دوران کینیڈا میں خوراک کی قیمتیں کم کرنے کے لیے علاقائی خوراک مراکز قائم کرنے کی تیاری

کینیڈا میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے باعث حکومتیں ملک کے خوراکی ترسیلی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہیں۔ برٹش کولمبیا اور مانی ٹوبا سمیت مختلف علاقوں میں علاقائی خوراک مراکز قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جن کا مقصد کاشت کاروں، خوراک تیار کرنے والوں اور چھوٹے خوردہ فروشوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور خوراک کو صارفین تک پہنچانے کے اخراجات کم کرنا ہے
اس منصوبے کے تحت ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے جہاں مقامی کاشت کار اپنی پیداوار جمع کر سکیں گے اور چھوٹے دکاندار، ریستوران اور دیگر خریدار وہاں سے براہ راست خوراک حاصل کر سکیں گے اس طرح خوراک کو صارف تک پہنچانے کے لیے درمیان میں آنے والے متعدد مراحل کم کرنے کی کوشش کی جائے گی
برٹش کولمبیا میں اس منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہاں پھلوں، سبزیوں، گوشت اور دیگر تازہ خوراک کی قابل ذکر مقامی پیداوار ہوتی ہے علاقائی مراکز کے ذریعے مقامی پیداوار کو طویل فاصلے تک منتقل کرنے کے بجائے قریبی علاقوں میں تقسیم کرنے کا نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے
مانی ٹوبا میں بھی خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور خوراک کی ترسیل کے موجودہ نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے صوبائی حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ مقامی پیداوار کو زیادہ مؤثر انداز میں صارفین تک پہنچایا جائے اور چھوٹے کاروباروں کو بڑی خوردہ کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں
اس پورے منصوبے کی ایک بڑی وجہ امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی بھی ہے۔ محصولات اور جوابی محصولات کے باعث درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ موجود ہے ایسے حالات میں حکومت مقامی خوراک کی پیداوار، ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کی صلاحیت بڑھانا چاہتی ہے تاکہ بیرونی منڈیوں پر انحصار کم کیا جا سکے
کینیڈا میں خوراک کی قیمتوں کا مسئلہ گزشتہ کئی برس سے عوام کے لیے ایک بڑا معاشی مسئلہ بنا ہوا ہے گوشت، انڈے، دودھ، سبزیاں، پھل اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے گھرانوں کے ماہانہ اخراجات پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے
نئے علاقائی خوراک مراکز کا مقصد صرف کاشت کاروں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے کی جگہ فراہم کرنا نہیں بلکہ خوراک کے پورے ترسیلی نظام میں مقابلہ بڑھانا بھی ہے اس وقت بڑی خوردہ کمپنیوں کا خوراک کی فروخت میں بہت بڑا حصہ ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے کاروباروں کے لیے بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے
اگر علاقائی مراکز کامیاب ہوتے ہیں تو چھوٹے دکانداروں کو مقامی کاشت کاروں سے براہ راست خریداری کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں اس کے نتیجے میں کاشت کاروں کو اپنی پیداوار کے لیے نئی منڈیاں ملیں گی جبکہ چھوٹے دکانداروں کو بڑی کمپنیوں کے علاوہ خوراک حاصل کرنے کے مزید ذرائع دستیاب ہوں گے
حکومت کو امید ہے کہ خوراک کے ترسیلی نظام میں درمیانی مراحل کم ہونے سے نقل و حمل، ذخیرہ کرنے اور تقسیم کے اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے اگر یہ کمی صارفین تک منتقل ہوئی تو مستقبل میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
تاہم ماہرین کے مطابق صرف علاقائی خوراک مراکز قائم کرنے سے فوری طور پر گروسری کی قیمتیں کم ہونا ضروری نہیں خوراک کی قیمتوں پر ایندھن، مزدوری، کھاد، موسم، نقل و حمل، درآمدی اخراجات اور عالمی منڈی کی قیمتوں سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں
اسی لیے اس منصوبے کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ آنے والے برسوں میں اس کے نتیجے میں عام گھرانے کے ماہانہ خوراکی اخراجات میں واقعی کمی آتی ہے یا نہیں حکومت کے لیے بھی سب سے اہم کامیابی یہی سمجھی جائے گی کہ مقامی کاشت کاروں کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ عام صارف کو بھی سستی اور آسانی سے دستیاب خوراک مل سکے
تجارتی جنگ کے موجودہ ماحول میں کینیڈا کے لیے مقامی خوراک کی پیداوار اور مضبوط ترسیلی نظام صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ خوراک کے تحفظ کا معاملہ بھی بن چکا ہے۔ علاقائی خوراک مراکز کا منصوبہ اسی کوشش کا حصہ ہے کہ ملک کے اندر پیدا ہونے والی خوراک کو زیادہ مؤثر انداز میں کینیڈین صارفین تک پہنچایا جائے اور بیرونی ذرائع پر انحصار کم کیا جائے

قومی خبریں سے مزید