پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایم ایل ون اور نجی شعبے کے منصوبوں کے لیے مزید مالی معاونت مانگ لی
اسلام آباد: پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے بڑے ترقیاتی منصوبوں، سرکاری و نجی شراکت داری اور خصوصاً کراچی سے پشاور تک مرکزی ریلوے لائن ایم ایل ون کے لیے مزید مالی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کردی ہے
ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے لیے نائب صدر ینگ منگ یانگ کی سربراہی میں وفد اس وقت اسلام آباد میں موجود ہے وفد کا دورہ پاکستان کے لیے 2026 سے 2030 کی شراکت داری حکمت عملی کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے اس حکمت عملی کی منظوری رواں سال مارچ میں دی گئی تھی
وفد نے بدھ کے روز وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کی معاشی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، اصلاحات اور مستقبل میں مالی معاونت بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی
پاکستان پہلے ہی ایم ایل ون منصوبے کے کراچی سے روہڑی تک 1670 کلومیٹر طویل حصے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کر چکا ہے اور اس منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت اب بینک سے مزید مالی سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جن میں ضمانتی سہولتیں اور سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے سرمایہ کاری کے نئے طریقے بھی شامل ہیں
ملاقات کے دوران وزیر اقتصادی امور نے حکومت کی مالی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 سے 4 برس کے دوران بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ملکی قرض لینے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے
انہوں نے ایم ایل ون کو قومی اہمیت کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نجکاری کو بھی ترجیح دے رہی ہے اور سرکاری و نجی شراکت داری کے ایسے مؤثر نظام پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے قابل عمل تجارتی منصوبوں کے لیے نجی سرمایہ کاری حاصل کی جاسکے
وزیر اقتصادی امور نے ایشیائی ترقیاتی بینک پر زور دیا کہ پاکستان میں نجی شعبے کے لیے اپنی مالی معاونت میں اضافہ کرے تاکہ بڑے منصوبوں کے لیے حکومتی وسائل پر انحصار کم کیا جاسکے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے
ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر نے پاکستان کی خودمختار قرض درجہ بندی میں بہتری اور معاشی استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے منصوبوں کی تیاری کے نظام میں اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان میں جدید مالیاتی سہولتیں متعارف کرانے کے امکانات کو بھی اہم قرار دیا
وفد نے ایم ایل ون منصوبے میں پاکستان کی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیا اور منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس مقصد کے لیے ریلوے کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات سے متعلق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات میں بھی پاکستان کی معاشی صورتحال، مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی ادائیگیوں، مجموعی معاشی استحکام اور قرض درجہ بندی میں ہونے والی بہتری پر تبادلہ خیال کیا گیا
حکام کے مطابق پاکستان کا مقصد آئندہ مرحلے میں ایسے بڑے منصوبوں کے لیے زیادہ مالی وسائل حاصل کرنا ہے جو ملک کے بنیادی ڈھانچے، ریلوے، نجی شعبے اور طویل مدتی معاشی ترقی کو مضبوط بنا سکیں





