Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ خوف شاید انشورنس کلیمز ایڈجسٹرز کو ہے، 98 فیصد جائزے منفی

مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ خوف شاید انشورنس کلیمز ایڈجسٹرز کو ہے، 98 فیصد جائزے منفی

امریکہ میں انشورنس کلیمز کی جانچ پڑتال کرنے والے ملازمین مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے شدید ناخوش دکھائی دیتے ہیں،ٹیکنالوجی میگزین وائرڈ کی رپورٹ کے مطابق گلاس ڈور پر کلیمز ایڈجسٹرز کی جانب سے مصنوعی ذہانت کا ذکر کرنے والے جائزوں میں حیران کن طور پر 98 فیصد منفی تھے
کلیمز ایڈجسٹرز وہ ملازمین ہوتے ہیں جو حادثات، گاڑیوں کے نقصانات، گھروں کو پہنچنے والے نقصان اور دیگر انشورنس دعووں کا جائزہ لیتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ کمپنی کو صارف کو کتنی رقم ادا کرنی چاہیے
مصنوعی ذہانت کے آنے سے ان ملازمین کو خدشہ ہے کہ ان کے کام میں انسانی فیصلے کی جگہ خودکار نظام لیتا جا رہا ہے،ان کے مطابق انشورنس کلیمز محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ ہر کیس میں مختلف حالات، شواہد اور انسانی صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے
گلاس ڈور پر سامنے آنے والے تبصروں میں ملازمین نے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے اخراجات کم کرنے اور کام تیز کرنے کے لیے اے آئی پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے
ایک کلیمز ایڈجسٹر نے وائرڈ سے گفتگو میں کہا، “اے آئی صرف ایک آلہ ہے، اسے کبھی بھی مکمل اختیار نہیں دیا جانا چاہیے”
ان ملازمین کا خدشہ صرف ملازمتیں ختم ہونے تک محدود نہیں،ان کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو کلیمز منظور یا مسترد کرنے کے فیصلوں میں بہت زیادہ اختیار دے دیا گیا تو غلط فیصلوں کا نقصان براہ راست انشورنس صارفین کو اٹھانا پڑ سکتا ہے
انشورنس کمپنیاں دوسری جانب مصنوعی ذہانت کو دھوکہ دہی پکڑنے، دستاویزات کا تجزیہ کرنے، کلیمز کی درجہ بندی اور کارروائی تیز کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں،کمپنیوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی اخراجات کم کرنے اور لاکھوں دعووں کو تیزی سے نمٹانے کا ذریعہ بن سکتی ہے
لیکن کلیمز ایڈجسٹرز کے ردعمل نے اے آئی کے پھیلتے استعمال کے ایک بڑے تضاد کو نمایاں کردیا ہے،کمپنی کے لیے مصنوعی ذہانت کارکردگی اور بچت کا ذریعہ ہوسکتی ہے، مگر اس کے ملازمین کے لیے یہی ٹیکنالوجی ملازمت، اختیار اور پیشہ ورانہ فیصلے کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن رہی ہے
اے آئی کے خلاف یہ مزاحمت اس بات کی علامت بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اصل جنگ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں یا سافٹ ویئر کے اندر نہیں لڑی جا رہی،یہ جنگ اب ان دفاتر میں بھی پہنچ چکی ہے جہاں انسان برسوں کے تجربے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرتے تھے کہ کسی حادثے یا نقصان کے بعد ایک عام صارف کو اس کا حق کتنا ملنا چاہیے

قومی خبریں سے مزید