Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں کپاس کی پیداوار شدید بحران کا شکار، کسان چاول اور گنے کی طرف منتقل ہونے لگے

پاکستان میں کپاس کی پیداوار شدید بحران کا شکار، کسان چاول اور گنے کی طرف منتقل ہونے لگے

پاکستان میں کپاس کی پیداوار مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے اور موجودہ اوسط پیداوار فی ایکڑ صرف 14 سے 16 من تک رہ گئی ہے، جبکہ ماضی میں اسی زمین سے 40 سے 50 من فی ایکڑ تک کپاس حاصل کی جاتی تھی۔ کم پیداوار اور کم منافع کے باعث کسان اب زیادہ آمدنی دینے والی فصلوں، خصوصاً چاول اور گنے کی جانب منتقل ہو رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں جمود، بیجوں کے معیار میں کمی اور بیرون ملک سے بہتر نئی اقسام کے بیج درآمد کرنے میں رکاوٹوں نے کپاس کے شعبے کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں حکومت نے نئی کپاس کی اقسام کی منظوری کے لیے کم از کم پیداوار 25 من فی ایکڑ مقرر کی ہے، تاہم یہ پیداوار بھی چاول اور گنے کے مقابلے میں کسانوں کے لیے زیادہ پرکشش نہیں
کپاس کی قلت کا اثر صرف کسانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ جننگ صنعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے گزشتہ دو سے تین برس کے دوران تقریباً 150 جننگ فیکٹریاں خام کپاس کی کمی کے باعث بند ہو چکی ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں کپاس کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کہ ٹیکسٹائل شعبہ مجموعی برآمدات میں تقریباً 55 سے 60 فیصد حصہ رکھتا ہے
بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک ہیکٹر سے تقریباً 1.7 ٹن بیج والی کپاس حاصل ہوتی ہے، جبکہ چین میں یہی پیداوار 6.6 ٹن اور آسٹریلیا میں 5.1 ٹن فی ہیکٹر کے قریب ہے۔ روئی کی پیداوار میں بھی پاکستان چین اور آسٹریلیا سے بہت پیچھے ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئی جینیاتی اقسام اور بہتر بیجوں کی ضرورت ہے چین کے جنوبی سنکیانگ میں بعض اقسام 75 سے 100 من فی ایکڑ تک پیداوار دیتی ہیں اور ان اقسام کو جنوبی پنجاب جیسے گرم علاقوں میں مقامی حالات کے مطابق آزمایا جا سکتا ہے
پاکستان میں بہتر کپاس کے بیج متعارف کرانے کی کوششیں طویل عرصے سے سرکاری اجازتوں اور انتظامی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ بعض درآمد شدہ اقسام نے مقامی تجربات کے دوران موجودہ پاکستانی اقسام سے نمایاں بہتر پیداوار بھی دی، لیکن تجارتی درآمد کے لیے درکار اجازتوں اور حیاتیاتی تحفظ سے متعلق کارروائیوں میں تاخیر ہوتی رہی ہے
ماہرین کے مطابق نئی اقسام کی منظوری کا موجودہ عمل تقریباً سات سال تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اس مدت کو حیاتیاتی تحفظ کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے تقریباً تین سال تک محدود کیا جا سکتا ہے ان کے مطابق کپاس کے شعبے کو بحال کرنے کے لیے نئی اعلیٰ پیداوار دینے والی اقسام متعارف کرانے کے ساتھ موجودہ بیجوں کے معیار، خالص پن اور تصدیق کے نظام کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے
اگر کپاس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ نہ کیا گیا تو کسانوں کا چاول اور گنے کی طرف مزید جھکاؤ ملک میں کپاس کی دستیابی، جننگ صنعت اور ٹیکسٹائل شعبے کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید