خارگ کے بعد کیا؟ ٹرمپ کی ایک سطر نے ایران جنگ کو تیل کی شہ رگ تک پہنچا دیا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تیل برآمد کرنے کے سب سے اہم مرکز خارگ جزیرے کے بارے میں ایک مختصر مگر دھماکہ خیز پیغام نے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بھڑکتی جنگ کے خطرناک اگلے مرحلے کا خدشہ پیدا کردیا ہے،ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر صرف اتنا لکھا کہ ’’خارگ جزیرہ تباہ کیا جا رہا ہے‘‘ اور ساتھ ایسی ویڈیو جاری کی جس میں جزیرہ شدید دھماکوں کی زد میں دکھائی دیتا ہے
لیکن اس وقت سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ خارگ پر کسی نئی امریکی بمباری کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق نہیں ہوئی،وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے فوری طور پر اس دعوے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ رائٹرز کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ کے ساتھ جاری کی گئی دھماکوں کی ویڈیو حقیقی جنگی مناظر نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ معلوم ہوتی ہے
اس کے باوجود ٹرمپ کا پیغام محض ایک سوشل میڈیا اشتعال انگیزی سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی مشکل ہے، کیونکہ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد براہ راست فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہوچکی ہے
اتوار کو امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایران کے لارک جزیرے پر پاسداران انقلاب کے 2 راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا،امریکی حکام کے مطابق ایرانی فورسز ایسے راکٹ داغنے کی تیاری کررہی تھیں جن کے ذریعے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں پہنچائی جاسکتی تھیں،یہ کارروائی جولائی کے آخر کے بعد ایران کے خلاف پہلی معلوم امریکی فوجی کارروائی تھی
امریکی فوج نے اسے محدود اور فوری خطرے کو ختم کرنے والی کارروائی قرار دیا، لیکن ایران نے اسے اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی،ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے،اس طرح چند گھنٹوں کے اندر ایک ایسا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا جس کے رکنے کے بعد واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی زیادہ تر فوجی حملوں کے بجائے معاشی دباؤ اور نئی پابندیوں کی طرف منتقل کردی تھی
اور پھر خارگ سامنے آگیا
خارگ ایران کے لیے محض ایک جزیرہ نہیں بلکہ اس کی اقتصادی شہ رگ ہے،جنگ سے پہلے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اسی مرکز سے گزرتی تھیں،اس لیے اگر امریکی حملہ واقعی خارگ کی تیل ذخیرہ کرنے، لوڈنگ یا برآمدی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو یہ کسی ایک فوجی اڈے پر حملے سے کہیں بڑا قدم ہوگا،یہ ایران کی آمدنی کے بنیادی ذریعے کو براہ راست نشانہ بنانے کے مترادف ہوگا
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کا ایک جملہ عالمی منڈیوں میں بھی فوری تشویش کا باعث بنا،امریکی ایرانی کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد برینٹ خام تیل تقریباً 2.8 فیصد بڑھ کر 90.60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا،ایشیائی حصص بھی دباؤ میں آئے
خطرہ صرف تیل کی قیمت بڑھنے کا نہیں
اگر خارگ کی تیل تنصیبات بڑے پیمانے پر تباہ کی جاتی ہیں تو ایران کے پاس جواب دینے کے لیے کئی راستے موجود ہیں،سب سے حساس راستہ آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے،امریکا نے حالیہ دنوں میں اسی گزرگاہ سے سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائی کی تھی اور امریکی حملے کا فوری جواز بھی یہی تھا کہ ایران انہیں دوبارہ بچھانے کی تیاری کررہا تھا
اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازعہ اب ایک خطرناک دائرے میں داخل ہوسکتا ہے،ایران آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال کرے، امریکا اسے کھولنے کے لیے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملہ کرے، ایران جواباً امریکی اڈوں یا بحری جہازوں کو نشانہ بنائے اور پھر واشنگٹن ایران کی تیل برآمدات کو مزید سختی سے نشانہ بنائے
امریکی حکمت عملی میں ایک اور تضاد بھی نمایاں ہے،ٹرمپ انتظامیہ حالیہ ہفتوں میں ایران پر فوجی دباؤ کم کرکے اقتصادی جنگ پر زور دے رہی تھی،امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے مالیاتی شراکت داروں کے خلاف نئی ثانوی پابندیاں ہر ہفتے سامنے آسکتی ہیں، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے
لیکن اسی دوران امریکی فوج نے دوبارہ ایران کے خلاف حملہ کیا اور صدر نے چند گھنٹوں بعد خارگ کے ’’تباہ ہونے‘‘ کا پیغام جاری کردیا
یہ سوال اب واشنگٹن میں سب سے اہم بنتا جارہا ہے کہ کیا ٹرمپ واقعی ایران کی تیل کی شہ رگ کو نشانہ بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا خارگ کی دھمکی تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک انتہائی جارحانہ نفسیاتی حربہ ہے؟
فی الحال دستیاب شواہد پہلے امکان کی تصدیق نہیں کرتے،خارگ پر کسی نئی امریکی کارروائی کی سرکاری تصدیق موجود نہیں اور ٹرمپ کی جاری کردہ ویڈیو بھی حقیقی حملے کی فوٹیج نہیں ہے
لیکن دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے،ٹرمپ نے پہلے بھی خارگ کو ممکنہ ؟ہدف کے طور پر سامنے رکھا ہے، اور اب جب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج دوبارہ براہ راست ایک دوسرے پر حملہ کرچکی ہیں، خارگ کا نام دوبارہ صدر کے پیغام میں آنا محض اتفاق نہیں سمجھا جارہا
اس وقت جنگ کا سب سے خطرناک سوال یہ نہیں کہ خارگ پر حملہ ہوا یا نہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ اگر اگلا امریکی حملہ واقعی خارگ پر ہوا تو ایران جواب میں آبنائے ہرمز کے ساتھ کیا کرے گا؟
کیونکہ اس صورت میں جنگ کا اگلا مرحلہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان نہیں رہے گا،تیل، جہاز رانی، عالمی افراطِ زر اور دنیا کی توانائی کی فراہمی بھی اس جنگ کے براہ راست فریق بن سکتے ہیں،اور 90 ڈالر کے قریب پہنچتا خام تیل اس خطرے کی پہلی مالی علامت پہلے ہی دکھا رہا ہے





