روبوٹس انسانوں سے تیز، مگر تار جوڑنے کا امتحان باقی
بیجنگ: چین میں انسان نما روبوٹس نے دوڑ کے میدان میں انسانوں کو پیچھے چھوڑنے کے بعد اب ایسے کاموں میں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا چیلنج قبول کرلیا ہے جو حقیقی دنیا میں زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں، جن میں کیبل جوڑنا، صنعتی اسمبلی اور گوداموں میں سامان منتقل کرنا شامل ہے
بیجنگ میں جاری ورلڈ ہیومنوئڈ روبوٹ گیمز 2026 میں روبوٹس کے لیے 51 مقابلے رکھے گئے ہیں، جن میں 30 کھیلوں اور 21 ایسے مقابلوں پر مشتمل ہیں جو فیکٹریوں، ریسٹورنٹس، دفاتر اور ہنگامی حالات کی حقیقی صورتِ حال کی نقل کرتے ہیں
رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز دو روبوٹس نے 100 میٹر دوڑ میں یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ سے بھی کم وقت میں فاصلہ طے کیا ایک اور ہیومنوئڈ روبوٹ نے 400 میٹر کی دوڑ 39.7 سیکنڈ میں مکمل کی، جو وےڈ وین نیکرک کے 43.03 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ سے تیز ہے تاہم تیز رفتاری کے ساتھ روبوٹس کے لیے بریک لگانا بھی ایک مسئلہ ثابت ہوا
ماہرین کے مطابق روبوٹس کی اصل آزمائش صرف تیز دوڑنے یا چھلانگ لگانے میں نہیں بلکہ اس وقت ہوگی جب انہیں حقیقی دنیا کی چھوٹی چھوٹی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، مثلاً ٹیڑھے زاویے پر موجود کیبل، اپنی جگہ سے ہٹا ہوا سامان یا بدلتی ہوئی پوزیشن والا پیکج
کیبل جوڑنے جیسے مقابلوں میں روبوٹ کی نظر، ہاتھ کی درست پوزیشن، جسمانی توازن، قوت کو قابو کرنے اور غلطی کے بعد خود کو سنبھالنے کی صلاحیت جانچی جاتی ہے
مقابلوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ، ریسٹورنٹ کے کام، ہنگامی حالات سے نمٹنے، ٹینس، صنعتی اسمبلی اور سامان لوڈ کرنے جیسے کام بھی شامل ہیں
روبوٹکس ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب یہ مشینیں مقابلوں سے نکل کر فیکٹریوں اور کاروباری اداروں میں عام صارفین کے مسائل مؤثر انداز میں حل کرنے لگیں گی۔





