Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک تنازع کے لیے تیار ہو رہا ہے

ایران بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک تنازع کے لیے تیار ہو رہا ہے

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس ماہ اعلیٰ سکیورٹی عہدوں پر سخت گیر اور تجربہ کار فوجی کمانڈروں کو تعینات کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ طویل محاذ آرائی کے لیے تیار رہنے کے ساتھ ملک کے اندر بڑھتی بے چینی کو بھی سختی سے دبانے کا ارادہ رکھتا ہے
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 ماہ تک منظرعام سے دور رہنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے سکیورٹی اداروں میں کی جانے والی تبدیلیاں ان کی حکمرانی کی سمت کا واضح اشارہ ہیں،نئی قیادت کو ایک ایسے وقت میں ملک سنبھالنا ہوگا جب ایران جنگ کے معاشی اثرات سے شدید دباؤ میں ہے اور امریکا کے ساتھ تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا
سابق پاسداران انقلاب کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سابق انٹیلی جنس سربراہ حسین طائب کو بسیج کی کمان سونپی گئی ہے،یہ دونوں شخصیات ایرانی نظام کے سخت گیر حلقوں میں نمایاں سمجھی جاتی ہیں
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑے پیمانے کی جھڑپیں کم ہونے کے باوجود بنیادی اختلافات برقرار ہیں،آبنائے ہرمز کے مستقبل اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے شدہ 60 روزہ مدت بھی ختم ہو چکی ہے
تہران ایک طرف جنگ ختم کرنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے لیکن دوسری جانب آبنائے ہرمز پر حاصل اپنے اسٹریٹیجک دباؤ کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں،یہی تعطل خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ برقرار رکھے ہوئے ہے
ایران کی نئی سکیورٹی قیادت کو اب دو محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگا: بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنا اور اندرون ملک ایسے عوامی احتجاج اور اختلاف رائے کو قابو میں رکھنا جو جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باعث مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید