ٹرمپ کی مقرر کردہ وفاقی جج کا عدالت کے ساتھ پی آر کمپنی چلانے کا انوکھا واقعہ
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ وفاقی اپیل عدالت کی جج جینیفر ماسکاٹ نے عدالت میں تقرری کے بعد بھی کئی ماہ تک واشنگٹن کی ایک عوامی رابطہ اور تشہیری کمپنی چلانے میں فعال کردار ادا کیا، جس نے مفادات کے ٹکراؤ اور عدالتی غیر جانب داری کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے
پولیٹیکو کی ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ،ماسکاٹ، جو اکتوبر 2025 میں تیسرے سرکٹ کی وفاقی اپیل عدالت کی جج بنیں، کم از کم 6 ماہ تک ایڈفیرو نامی کمپنی کے روزمرہ انتظامی امور میں شامل رہیں،14 سابق ملازمین اور گاہکوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کمپنی کے آخری دنوں کی تفصیلات بیان کیں
رپورٹ کے مطابق 9 سابق ملازمین نے بتایا کہ ماسکاٹ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ واشنگٹن میں کمپنی کے دفتر جاتی تھیں اور عدالتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کمپنی کے عملے، کاروباری منصوبہ بندی اور گاہکوں سے تعلقات کے معاملات کی نگرانی کرتی تھیں
ایڈفیرو ایک عرصے تک غیر جانب دارانہ طور پر عوامی رابطوں اور مارکیٹنگ کا کام کرنے والی کمپنی رہی تھی اور اس کے گاہکوں میں دواسازی اور قومی خوردہ فروشوں کی نمائندہ تنظیمیں بھی شامل تھیں،تاہم ماسکاٹ کی قیادت کے آخری دور میں کمپنی میں سیاسی رجحان بھی نمایاں ہونے لگا اور بعض سابق ملازمین کے مطابق مضبوط ٹرمپ نواز سیاسی پس منظر رکھنے والے مشیروں کو بھی شامل کیا گیا
ماسکاٹ کو یہ کاروباری مفاد اپنے مرحوم شوہر سے وراثت میں ملا تھا، جن کا انتقال 2023 میں ہوا تھا،امریکی عدالتی ضابطۂ اخلاق میں بعض مخصوص حالات میں ججوں کو ایسے خاندانی کاروبار میں عہدہ رکھنے کی اجازت ہے جو قریبی خاندان کی ملکیت اور کنٹرول میں ہو، تاہم شرط یہ ہے کہ جج اپنے منصب کے وقار کو کاروبار کے فروغ کے لیے استعمال نہ کرے اور عدالتی ذمہ داریوں سے اہم وقت نہ ہٹائے
ماسکاٹ نے پولیٹیکو کو بتایا کہ انہوں نے قانونی اور اخلاقی تقاضوں کی پابندی کی اور کمپنی کے معاملات کے دوران متعلقہ قانونی اور اخلاقی ماہرین سے باقاعدگی سے مشاورت کی تاکہ تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں
لیکن کمپنی کے ملازمین اور بعض گاہکوں کے لیے یہ انتظام باعثِ تشویش بنا،ملازمین اور گاہکوں کی ایک بڑی تعداد کے الگ ہونے کے بعد ایڈفیرو بالآخر جون 2026 کے آخر میں اپنا کاروبار بند کر گئی
اس معاملے نے وفاقی ججوں کے لیے کاروباری سرگرمیوں سے متعلق اخلاقی ضابطوں اور عدالتی غیر جانب داری کے سوال کو ایک مرتبہ پھر امریکی سیاسی اور قانونی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے،ماسکاٹ کی تقرری اور اس معاملے پر اعتراضات کے حوالے سے مزید عدالتی اخلاقی شکایات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے





