اے آئی کے دور میں کالج طلبہ پریشان، کون سی ڈگری مستقبل میں کام آئے گی؟
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے کالج کے طلبہ اور ان کے والدین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ایسی کون سی تعلیمی ڈگری یا شعبہ اختیار کیا جائے جو آنے والے برسوں میں بھی روزگار کے لیے مفید رہے
مصنوعی ذہانت ملازمتوں کی دنیا میں داخل ہونے والے نئے کارکنوں سے مطلوب مہارتوں کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے،اس کے نتیجے میں کالج اور یونیورسٹیاں بھی اس سوال پر دوبارہ غور کر رہی ہیں کہ طلبہ کو ایسی تعلیم کیسے دی جائے جو انہیں مصنوعی ذہانت سے بدلتی ہوئی ملازمتوں کی دنیا کے لیے تیار کر سکے
طلبہ میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ جس شعبے میں وہ آج تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ممکن ہے چند برس بعد وہاں مصنوعی ذہانت بہت سے کام خود انجام دے رہی ہو،اسی وجہ سے بعض طلبہ اپنی موجودہ تعلیم اور مستقبل کے روزگار کے درمیان تعلق پر سوال اٹھا رہے ہیں
تاہم ماہرین کے مطابق یہ تصور کہ مصنوعی ذہانت تمام ملازمتیں ختم کر دے گی، شاید مبالغہ آمیز ہو،اس کے باوجود روزگار کی نوعیت ضرور تبدیل ہو رہی ہے اور کالج سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کے لیے یہ جاننا پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ ان کی ڈگری انہیں عملی زندگی میں کون سی مہارتیں فراہم کرے گی
امریکن یونیورسٹی کے کوگوڈ اسکول آف بزنس کے عبوری ڈین کیسی ایونز کے مطابق کالج کے اساتذہ اور انتظامیہ کو اس بات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ طلبہ اپنی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسے عملی زندگی میں کس طرح استعمال کریں گے اور دورانِ تعلیم حاصل کی گئی معلومات ان کے مستقبل کے پیشے میں کس طرح کام آئیں گی
مصنوعی ذہانت کے دور میں کالج کا انتخاب اب صرف اس سوال تک محدود نہیں رہا کہ کون سا مضمون دلچسپ ہے یا کس شعبے میں آج زیادہ ملازمتیں موجود ہیں، بلکہ طلبہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ آنے والی ٹیکنالوجی ان کے منتخب کردہ شعبے کو کس حد تک تبدیل کر سکتی ہے اور کون سی انسانی مہارتیں ایسی ہیں جن کی مستقبل میں بھی ضرورت برقرار رہنے کا امکان ہے





